” ماں ” ایک سانجھا رشتہ ۔۔ تحریر: نعیم ثاقب

دنیاوی رشتوں ناتوں سے لیکر مال و دولت تک ہر چیز میں ” تیرا ” میرا کا چکر ہے پر ماں کا رشتہ وہ دولت ہے جو سب کا سانجھا ہے ، ماں اپنی ہو یا کسی دوست کی ، مختلف ناموں اور صورتوں کے ساتھ صرف ماں ہی ہوتی ہے ، پیار کرنے والی ، دعائیں دینے والی ، محبتیں بانٹنے والی ، خلوص نچھاور کرنے اور قربانی دینے والی ایک بے لوث ہستی ۔۔۔میں نے چچی عابدہ ،بھابھی صابرہ ، یارمن کاشف سلیم ، بچپن کے ساتھی آصف سلہریا ، دل کے بہت قریب شہزاد امین ، احمد اسحاق ، ڈاکٹر ابوذر، خلیل حشمت ، ڈاکٹر صدیق ،کاظم خاں ، امتنان شاہد ، قدوس ملک اور نوید کاشف بھائی سمیت سب کی ماؤں کو ایک جیسا مخلص ، مہمان نواز ، پیار کرنے اور خیر بانٹنے والی عظیم ہستی پایا ،
میں نے اپنی ماں کو نہیں دیکھا، اس کی گود میں سر رکھنے کی لذت سے نا آشنا رہا، اسی لیے کسی بھی دوست کی والدہ کے انتقال کا سنتا ہوں تو میرے زخم ہرے ہو جاتے ہیں مجھے لگتا ہے کہ دہائیوں پہلے بچھڑنے والی ماں پھر جدا ہوگئی ہے ۔ ایسا ہی احساس گزشتہ روز دوبارہ عزیز ترین دوست ،بچپن کے کلاس فیلو ہم خیال ، ہمراز الطاف اظہر کا میسج دیکھ کر ہوا ۔ جس میں امی کے جانے کی اطلاع دی تھی ۔ میسج پڑھ کر دل مٹھی میں آگیا ، زخم ہرے ہوگئے پلکیں بھیگ گئیں ، تقریبا چار دہائیوں کے سب مناظر انکھوں کے سامنے آگئے ۔
وہ چھٹی ساتویں کا زمانہ جب میری الطاف کی دوستی بی ٹی ایم ہائی سکول کے کلاس روم کی دویواروں سے نکل کر گھر تک پہنچ گئی ۔ سکول میں ساتھ تو تھے ہی ٹیوشن بھی قاری عبدالرؤف صاحب سے پڑھنے الطاف گھر جانے لگے ، آتھویں کے بورڈ کے امتحان کی تیاری کا ناقابل فراموش دور کیسے بھلایا جاسکتا ہے جب تیاری کے لیے تقریبا” ایک مہینہ ابوذر ، آصف سلہریا ، فیصل میمن ، کامران ، میں اور دیگر دوست الطاف کے گھر دن رات رہے – ماں جی کی نصیحتیں دعائیں اور قاری صاحب کی بے لوث محنت رنگ لائی اور ہم تینوں وظیفہ ہولڈر بن گئے ۔ جس کی وجہ سے قربت بڑھی اور ٹائم اکھٹے گزرنے لگا، ہمارا گھر فی میل نہ ہونے کی وجہ سے سب دوستوں کے لیے بہترین ٹھکانا تھا ، الطاف نے گھر آنا تو ہم نے مل کر گڑ والے چاؤل بنا کر عیاشی کرنی ، دوستی گہری ہوئی تو بوریوالہ میں ہم لازم و ملزوم ہو گئے ہمیشہ اکھٹے نظر آتے ، میں کرکٹ کھیلتا تو الطاف پہروں گراونڈ کے باہر انتظار کرتا رہتا ، الطاف کو شکار کا شوق چڑھا تو میں ائیر گن پکڑے سارا دن نہر کنارے اس کے ساتھ پھرتا رہتا کبھی ہم دونوں الگ الگ نظر آتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ ناراضگی ہو گئی ہے لہٰذا صلح کی کوشیش شروع کردیتے ، ہمارا تیسرا قریبی دوست ڈاکٹر ابوذر تھا ، کلاس میں پہلی تین پوزیشنیں بھی ہم تینوں کی ہوتیں تھیں ، ابوذر ساتھ تو کم پھرتا تھا پر شکار اور لڑائی جھگڑوں کے ہم سے قصے ضرور سنتا تھا ، اور اسی شرط پر موٹر سائیکل بھی دے دیتا تھا ،
اس دور میں الطاف کا گھرانہ بلا شبہ بوریوالہ کا سب سے پڑھا لکھا گھرانہ تھا ، ڈاکٹر مظہر بھائی( الطاف کے بڑے بھائی ) نے مڈل ، میٹرک اور ایف ایس سی میں ملتان بورڈ میں نمایاں کامیابیاں سمیٹیں اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ڈاکٹر بنے ، خود الطاف بے حد ذہین اور خوبصورت ترین ہینڈرائٹنگ کا مالک ، لکھتا تو یوں لگتا جیسے موتی پرؤئے ہوں ، مظہر بھائی ہم سب کی inspiration تھے ، انتہائی باذوق اور نرم لہجے کے مالک ، دلیل اور لاجک سے بات کرکے سامنے والے گرویدہ بنا لیتے ، پڑھائی کے ساتھ سپورٹس میں بھی پہلے نمبروں پہ ، پہلی بار ان کے ہاسٹل میں آیا تو ساری رات ایک ہی کرسی پر پڑھتے دیکھا ،اور سہہ پہر کو ہاسٹل کے گراونڈ میں بہترین فٹ بال کھیلتے نظر آئے تو حیران رہ گیا ۔
خیر بات ہو رہی تھی الطاف سے دوستی کی جس کی وجہ سے گھر آنا جانا شروع ہوا تو ماں جی سےبھی ملاقاتیں شروع ہو گئیں ، ان گنت مرتبہ ان کے ہاتھوں سے کھانے کھائے ، چائے پی اور دعائیں لیں ۔ ماں جی ایک باہمت اور پر وقار شخصیت کی مالک تھیں جنہوں نے اپنے خاوند کی وفات کے بعد اپنی اولاد کو باپ کی کمی محسوس نہیں ہونی دی انتہائی حوصلے اور سمجھداری سے پورے خاندان کو ہر دھوپ چھاؤں سے بچاکر بہترین تربیت دی ۔ اور کسی محرومی کا احساس نہ ہونے دیا ۔ مظہر بھائی تو ماں جی کا خصوصی پیار تھے کے ای ایم سی کے اس دور مظہر بھائی نے قابل رشک زندگی گزاری ان کے رہن سہن اور پہناوے میں ماں جی نے کوئی کمی نہ آنے دی سٹوڈنٹ دور میں گاڑی سمیت ان کو ہر وہ سہولت مہیا کی جو زمانہ طالب علمی میں کوئی خواہش کر سکتا ہے ،
شہزاد چھوٹا ہونے کی وجہ سے ماں سمیت سب کا لاڈلا تھا ، تو راس سمجھدار ہونے کی وجہ سے تھوڑا سنجیدہ ، ماں کی تربیت کی جھلک سب میں آج بھی نظر آتی ہے ۔ الطاف ہماری طرح دنیا دار ، یاری دوستی والہ ۔ ساتھ چلنے اور نبھانے والا ۔۔
الطاف ایف ایس ای کے بعد لاھور آ گیا تو ملاقاتیں کم ہو گئیں پر تعلق ویسا ہی رہا ، پھر میں بھی لاہور آیا تو دوبار اکھٹے رہنے لگے ، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ہال روڈ والے ہاسٹل سے لیکر کوٹھے پنڈ کے فلیٹس تک دن رات اکھٹے کزرے۔ جن کی لاتعداد یادیں اور بے شمار قصے ہیں ۔۔الطاف کی فیملی لاہور شفٹ ہوئی تو 1998 میں الطاف آسٹریلیا چلا گیا ،پھرسب سے ملنا ملانا کم ہو گیا ۔ زندگی کی بھاگ دوڑ میں کبھی لبھار فرصت ملتی تو فون پہ گپ شپ کے دوران سب کی خیر خیریت کا پتہ چلتا۔ الطاف پاکستان آتا تو محفلیں جمتیں ، اکثر عامر کریم ، میں اور الطاف رات گئے تک بیٹھے بوریوالہ کالج کے دور کو یاد کرتے رہتے ۔دو تین سال پہلے کرنل حمیدالرحمن اسلام آباد سے لاہور آیا تو کہنے لگا یار الطاف کی طرف چلیں ماں جی کو مل کے آئیں ، پروگرام بن گیا اور مشتاق بھائی کو کال کی ، مشتاق بھائی ( الطاف کے بہنوئی ) برسوں پہلے جن کی شادی پر ٹینٹ سے لیکر کھانا سرو کرنے تک کے سب انتظامات کی ذمہ میری اور الطاف کی تھی ۔ امی سے ملاقات ہوئی تو تھوڑی بیمار اور کمزور سی لگی ، ہمیں دیکھ کر کھل اٹھیں چہرے پہ رونق آگئی شوق اور اصرار سے ٹیبل پہ لگی چیزیں کھلاتیں رہیں بے شمار دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے کہنے لگی الطاف آسٹریلیا ہے پر تم لوگ تو آتے رہا کرو” آپ بھی تو میرے لیے الطاف کی طرح ہی ہو ۔ مجھے آصف ، کاشف ، اور شہزاد کی امی کے ایسے ہی الفاظ یاد آگئے ، شاید پردیس میں رہنے والوں بیٹوں کی سب مائیں بیٹے کے قریبی دوستوں میں اپنے بیٹے دیکھ کر خود کو تسلی دیتی ہیں ۔
کچھ عرصے سے الطاف بتا رہا تھاکہ امی جان ٹھیک نہیں ہیں پر ان کے جانے کی خبر بڑی شاکنگ تھی ۔ مشتاق بھائی سےجنازے کا پوچھا تو بتایا کہ جمعہ کی نماز کے ساتھ ہی جنازہ ہے ۔ نماز جنازہ کے بعد شہزاد اور راس گلے لگے تو ہچکی بندھ گئی ، شہزاد کہنے لگا نعیم بھائی آپ تو ہمارا دکھ سمجھ سکتے ہیں نا ۔۔ کیونکہ آپ تو بہت پہلے یہ جھیل چکے ہیں ، میں اپنی آنکھوں کے آنسوؤں چھپاتے ہوئے اسے کھوکھلا سا دلاسہ دیتا رہا ،اسے کیا بتاتا کہ صرف ماں ہی نہیں جاتی گھر کا محور بھی چلا جاتا ہے ، پردیسیوں کے واپس آنے کی وجہ بھی چلی جاتی ہے ۔ جس ڈور سے سب رشتے بندھے ہوتے ہیں وہ ٹوٹ جاتی ہے ۔ اور سب بکھر سے جاتے ہیں ۔ مظہر بھائی کو بڑی دیر تک گلے لگائے خاموش کھڑا رہا ۔الفاظ مردہ اور بے معنی محسوس ہو رہے تھے ، کچھ بھی کہنے سے قاصر تھا ۔
قبرستان سے تدفین کے بعد واپس نکلنے لگے تو کرنل حمید کی کال آگئی کہ میں اسلام آباد سے نکل رہا ہوں چھ بجے تک پہنچ جاؤنگا آپ بھی آجانا ، شام کو عامر کریم سے رابطہ ہوا اور ہم الطاف کے گھر چلے گئے جہاں راو حمید موجود تھا ،تھوڑی دیر بعد اعجاز بھی پہنچ گیا ، ماں جی کے لیے دعائیں مانگتے ہوئے میں سوچ رہا تھا کہ مائیں تو سانجھی ہوتیں ہی ہیں پر دوستوں کے فرائض بھی سانجھے ہوتے ہیں جنازے کو کندھے دینے کے ، قبر پہ مٹی اور پھول ڈالنے کے ، مغفرت کے لیے دعائیں کرنے کے ۔ اللہ ہمیں اپنے تمام فرائض کی احسن طریقے سے ادائیگی کی توفیق دے ۔
آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں