میں نے ہمیشہ نواز شریف کو ووٹ دیا لیکن اس نے مجھے دھوکہ دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے تجزیہ کار جنرل (ر) غلام مصطفٰی نے کہا کہ مجھے اعتراض ہوتا ہے جب پی ڈی ایم کو ایک تحریک کہا جاتا ہے کیونکہ تحریک مقاصد کے لیے ہوتی ہے اور وہ اعلیٰ مقاصد ہوتے ہیں۔ بد قسمتی یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کی کسی بھی سیاسی جماعت کی بات کر لیں کسی کی کوئی سیاسی فلاسفی نہیں ہے، کسی کا کوئی بڑا مقصد نہیں ہے۔لہٰذا جب تک کوئی مقصد نہ ہو تو تحریکیں نہیں بنا کرتیں۔ انہوں نے کہا کہ بہرحال یہ سب کچھ چل رہا ہے۔ سویلین سپریمیسی کی جب یہ لوگ بات کرتے ہیں تو بہت سے لوگ یہی چاہتے ہیں،

اس پر بہت سے لوگ بات کر سکتے ہیں۔ جب یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”ووٹ کو عزت دو” تو میرے ووٹ کو تو کبھی نواز شریف نے عزت نہیں دی۔میں نے ہمیشہ نواز شریف کو ووٹ دیا لیکن نواز شریف نے ہمیشہ مجھے دھوکہ دیا۔میں اُن لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے 12 اکتوبر 1999ء کو میں جانتے بوجھتے ہوئے اور سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی یہ سمجھتا تھا کہ یہ کچھ بہتر کر لیں گے۔ لیکن سب کی اپنی اپنی سوچ ہے۔ مجھے اب اس چیز سے اعتراض ہے کہ یہ تحریک نہیں ہے۔ دوسری طرف دنیا میں عوام کے لیے حکومتیں ہٹتی ہیں، ایسا ہوتا ہوا میں نے دیکھا ہے لیکن جیسے میں نے پہلے کہا کہ اُن تحاریک کے مقاصد بڑے ہوتے ہیں۔لیکن جب مقاصد اس قسم کے ہوں اور جو جماعتیں مل کر بیٹھی ہوئی ہیں ان کے آپسی اختلافات ہوں۔ اور یہ جماعتیں خود کسی ایک مقصد اور سوچ پر اتفاق نہ کر سکیں تو پھر بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ یہاں ایک مسئلہ لیڈر شپ کا بھی ہے ، کہ کون اس کو لیڈ کرے گا ، اس کے علاوہ جب یہ لوگ استعفوں کی بات کرتے ہیں تو بھی ان کے آپس میں اختلاف ہیں۔ یہی نہیں حکومت کی نالائقی اپنی جگہ ہے ، مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے ، کیونکہ اگر حکومت 50 سے 60 فیصد بھی اپنی کارکردگی دکھا رہی ہوتی تو یہ جو جلسے جلوس ہو رہے ہیں یہ بھی نہ ہوتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں