اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر مشتمل اپوزیشن اتحاد نے اتفاق کیا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ حکومت نہیں چھوڑے گی۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا ، اجلاس میں اتفاق ہوا کہ سندھ حکومت کو چھوڑنا ایک انتہائی فیصلہ ہے جوکہ بلکل آخری آپشن ہوگا ، تاہم پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں حکومت مخالف تحریک کے سلسلہ میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا جس میں پی ڈی ایم قیادت ایک نقطے پر متفق ہوگئی کہ پیپلزپارٹی سندھ اسمبلی سے استعفے نہیں
دے گی اور نہ ہی صوبائی حکومت چھوڑے گی۔بعدازاںپاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے تمام جماعتوں کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو استعفے پارٹی قیادت کو جمع کرانے کی ہدایت کردی۔مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اس کے علاوہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل کے سربراہ نواب اخترمینگل، پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی مریم نواز سمیت دیگر قائدین شریک تھے۔اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت مخالف تحریک پر غور کیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور اہم فیصلوں سے آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 13 دسمبر کو مینار پاکستان پر ہی جلسہ ہوگا اور اگر رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو ملتان سے زیادہ برا حشر ہوگا جبکہ جعلی وزیراعظم نے آج ایسی باتیں کیں جیسے وہ نشے میں بات کہہ رہے ہیں، وہ ڈائیلاگ نہیں بلکہ ہم سے این آر او مانگ رہے ہیں۔انہوں نے ہدایت کی کہ 31 دسمبر تک تمام پارٹیوں کے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پارٹی قائدین کے پاس استعفے جمع کرادیں۔سربراہ اتحاد کا کہنا تھا کہ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس
میں ملک کے اندر پہیہ جام ہڑتال، شٹر ڈاؤن اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ کا تعین کیا جائے گا۔گرفتاریوں سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم نے سوچا بھی نہیں کہ گرفتاری کیا چیز ہوتی ہے؟ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو فرق پڑچکا، کرسی کی چولیں ہل چکیں، اب ایک دھکے کی ضرورت ہے۔استعفوں سے متعلق سوال پر سربراہ اتحاد نے حکمران جماعت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے استعفے دیے تو واپس ان کی طرح نہیں چاٹیں گے، تحریک اس پورے سسٹم اور دھاندلی کےخلاف ہے، دھاندلی کرنے والے خود سوچیں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔









