اسلام آباد (نیوز ڈیسک)کومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک کے لیے پی ڈی ایم کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرانے کی تجویز دے دی۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت بڑی بیٹھک میں بڑے فیصلوں کا امکان ہے، پی پی چیئرمین بلاول بھٹو اور ن لیگ کی مریم نواز بھی اجلاس میں شریک ہیں۔اجلاس میں یوسف رضا گیلانی، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، میاں افتخار، امیر حیدر ہوتی، محمود خان اچکزئی، آفتاب شیر پاؤ، پروفیسر ساجد میر و دیگر اپوزیشن رہنما شریک ہیں۔
ذرایع نے بتایا کہ نواز شریف نے استعفے مولانا فضل الرحمان کے پاس جمع کرانے کی تجویز دے دی ہے اور کہا کہ لانگ مارچ کے بعد مولانا فضل الرحمان استعفے اسپیکر کو پیش کر دیں، تمام جماعتوں کی جانب سے نواز شریف کی تجویز کی حمایت کی گئی۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے سربراہان کا اجلاس جاری ہے، سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف بھی بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس کے دوران نئے سال کے آغاز کے ساتھ ہی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مولانا فضل الرحمان کی جانب سے جیل بھرو تحریک چلانے کی تجویز دی گئی، اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تجویز دی گئی کہ اسمبلیوں سے استعفے لانگ مارچ کے بعد دیئے جائیں اور مناسب وقت پر اس آپشن کا استعمال کیا جائے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کیساتھ این آر او کے علاوہ ہر چیز پر بات چیت ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفے دے گی تو نئے الیکشن کرائیں گے۔ اپوزیشن پراعتماد ہے تو میں بھی پراعتماد ہوں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا ہے کہ اپوزیشن کو بیرون ملک سے سپورٹ حاصل ہے۔ کچھ ممالک پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلم ممالک کو غیر مستحکم کیا گیا، پاکستان میں بھی ایسا کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سے بات چیت شروع کریں تو ان کے رہنما اپنے مقدمات لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اپوزیشن نیب کا خاتمہ چاہتی ہے تاکہ ان کے کیسز ختم ہو جائیں۔









