اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کو آمنے سامنےلانے پر اسٹیبلشمنٹ حکومت سے ناراض

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کو اعلانیہ شک ہے کہ اپوزیشن اُن کے خلاف سازش کر رہی ہے، اپوزیشن کو شک ہے کہ حکومت، اپوزیشن کے خلاف سازش کر رہی ہے اور اُس کی طاقت کو مٹانے کے درپر ہے۔ سینئرصحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اپنے حالیہ کالم میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کو حکومت اور اپوزیشن دونوں پر شک ہے، اپوزیشن پر اُسے شک ہے کہ یہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو لڑا کر اُنہیں الگ الگ کرنا چاہتی ہے تاکہ دونوں کمزور ہو جائیں۔اسٹیبلشمنٹ کو حکومت سے گلہ ہے کہ وہ اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کو آمنے سامنے لاکر خود کو محفوظ بنانا چاہتی ہے۔

سازش اور شک کے اِس ماحول میں جہاں پارٹیاں اور ادارے ابنارمل ہو جاتے ہیں وہاں سازش اور شک افراد کو بھی غیرمحفوظ بنا دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف کو اُن کے کسی بہی خواہ نے اطلاع دی ہے کہ انتہائی اعلیٰ سطح پر اُن کو جان سے مار دینے کی سازش سوچی جا رہی ہے، اُنہیں شک ہے کہ اُنہیں فضائی حادثے میں پار لگانے یا پھر سازش سے ہٹا دینے کے بارے میں باتیں کی جا رہی ہیں۔سہیل وڑائچ نے بتایا کہ مریم نواز اِس طرح کی اطلاعات کو صرف دھمکی نہیں بلکہ حقیقت پر مبنی سمجھنے میں حق بجانب ہیں، جب ماحول ہی شک اور سازش کا ہو تو ایسے میں مریم نواز شک کو حقیقت کیوں نہ سمجھیں؟ اُنہوں نے اپنے کالم میں کہا کہ جب شفافیت نہیں ہوتی، جبر اور ظلم کی دھند چھائی ہوتی ہے تو پھر سوشل میڈیا پر خادم حسین رضوی، جج ارشد ملک اور جسٹس وقار سیٹھ کی موت بھی مشکوک بن جاتی ہے، شک اور سازش کی عمومی صورتحال کے باوجود ریاست سے یہ سوال اُٹھانا پڑتا ہے کہ ریاست کا پہلا فرض تو فرد کے جان و مال کی حفاظت ہے، ایسے میں مریم نواز کو اگر حکومت اور ریاست سے ہی اپنی جان کا خطرہ ہو تو کون ہے جو اُسے دلاسہ دے اور کون ہے جو اُسے اِس پریشان کن صورتحال سے امان دے؟ نہ یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے غیرجانب دار نظر آ رہے ہیں اور نہ ہی عدل و انصاف فراہم کرنے والے ایوانوں پر مسلم لیگ ن کا اعتماد ہے۔جب اداروں پر اتفاقِ رائے نہ ہو، نہ ہی کوئی ضمانتی یا متفق علیہ ہو، ہر کسی کو دوسرے پر شک اور سازش کا گمان ہو تو

پھر گھڑمس، تصادم اور کشمکش سے کیسے بچ سکیں گے؟ میری رائے میں کسی ریاست کے جمہوری اور انصاف پسند ہونے کا معیار یہ ہے کہ وہاں اقلیتوں اور مخالفوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ مریم نواز کے والد لندن میں، چچا اور چچا زاد بھائی یعنی شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف جیل میں ہیں، وہ اپوزیشن کی اہم رہنما ہیں، اکیلی جنگ لڑ رہی ہیں، اگر ایسے میں اُنہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں یا واقعی اُنہیں جان سے مارنے کی سازش ہو رہی ہے تو یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں تو ریاست کے اعلیٰ ترین عہدیداروں اور وزیراعظم کو خود یہ اعلان کرنا چاہئیے کہ مریم نواز کی جان کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے اور جو کوئی، جس بھی سطح پر اس بارے میں سوچ رہا ہے، اُس کا احتساب کرنا چاہئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں