اسلا م آباد(نیوز ڈیسک)سعودی عرب اور قطر کے 13 شیوخ کو بلوچستان اور ملک کے دیگر صوبوں میں شکار کرنے کی اجازت مل گئی۔وزارت خارجہ نے سعودی عرب میں گورنر تبوک کے شہزادہ فہد بن سلطان، سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور گورنر حفر الباطن کے گورنر منصور بن محمد کو شکار کرنے کی اجازت دی۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان لیہ اور بھکر میں، گورنر تبوک شہزادہ فہد بن سلطان آواران اور چاغی میں جبکہ گورنر حفر الباطن منصور بن محمد ضلع ڈیرہ غازی خان میں شکار کر سکیں گے۔قطر سے شیخ تمیم بن حماد ضلع جھنگ میں، شیخ خالد بن خلیفہ کو
جیکب آباد میں، شیخ حماد بن خلیفہ کو ضلع بہاولنگر میں، شیخ محمد بن خلیف الثانی کو لورالائی میں، شیخ جاسم بن حمد الثانی کو موسیٰ خیل، شیخ فیصل بن نصیر کو قلعہ سیف اللہ میں، شیخ محمد بن علی الثانی کو بارکھان میں، شیخ ثانئی بن عبدالعزیز کو قلات اور سوراب میں، شیخ علی بن عبداللہ کو ضلع تربت میں اور شیخ خالد بن ثانئی کو دادو میں شکار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔شکار کی مد میں بلوچستان کے خزانے میں 14 سے 15 کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں۔ بیرون ملک سے آنے والے شیخ زیادہ تر تلور پرندے کا شکار کرتے ہیں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور سعودی حکمران خاندان کے دیگر 2 اراکین کو سال 21-2020ء کے شکار سیزن میں بین الاقوامی تحفظ کے حامل پرندے تلور کے شکار کا اجازت نامہ جاری کیا تھا۔ا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے علاوہ دیگر دو شکاری گورنرز ہیں جن میں سے ایک نادہندہ ہیں کیونکہ انہوں نے گذشتہ برس شکار کی فیس ادا نہیں کی تھی۔ شکاریوں کو بلوچستان اور پنجاب کے مخصوص علاقوں میں شکار کی اجازت دی گئی۔واضح رہے کہ قبل ازیں وفاقی حکومت نے دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کو نایاب نسل کے 150 شاہین برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔









