لاہور ((نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف اور اُن کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو 3 دسمبر کو پیرول کی مدت ختم ہونے کے بعد کوٹ لکھپت جیل پہنچا دیا گیا تھا ۔ پیرول کے آخری دن مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کی ملاقات ہوئی تھی جس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے۔میڈیا رپورٹ میں بتایا کہ پیرول کے آخری دن مریم نواز نے چچا شہباز شریف اور کزن حمزہ شہباز سے ملاقات کی تھی، ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں شہباز شریف نے مریم نواز کو گرین سگنل دیا تھا اور کہا تھا کہ عوام نے آپ کو لیڈر مانا ہے۔
لوگ آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہیں اور باہر نکلتے ہیں۔ اسی لیے ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔آپ ہمیں بتائیں کہ ہم آپ کے لیے کیا کر سکتے ہیں؟ آپ ہمیں جو بتائیں گی ہم وہ کرنے کو تیار ہیں۔ملاقات میں حمزہ شہباز نے بھی مریم نواز سے پوچھا کہ آپ ہمیں بتائیں ہم ایسا کیا کریں جس سے آپ کو مدد ملے؟ مریم نواز نے شہباز شریف سے کہا کہ آپ میرے صدر ہیں اور میرے باپ کی جگہ ہیں، حمزہ میرا بھائی ہے۔ آپ کی صدارت میں رہنمائی لیتی رہوں گی۔اس ملاقات میں پارٹی کے دو سے چار مزید لوگ بھی موجود تھے۔ ملاقات میں موجود دیگر لوگوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے یہی الفاظ تھے۔ذرائع کے مطابق اس اندرونی کہانی کے بعد شریف خاندان میں موجود اختلافات کی خبروں کی تردید ہو جاتی ہے جبکہ کچھ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز اس وقت زیر عتاب ہیں اور ان کو ریلیف کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو انہوں نے وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سب کے سامنے مریم نواز سے یہ ساری گفتگو کی۔دوسری جانب لاہور میں اسلام آباد روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ قانون اور آئین کی باتیں حکومت کو زیب نہیں دیتیں، لوگ مہنگائی، بیروزگاری اور لاقانونیت سے تنگ آئے ہوئے ہیں، لوگ پی ڈی ایم میں اور نواز شریف میں اپنی نجات دیکھ رہے ہیں،مریم نواز نے کہا کہ 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والے جلسے سے حکومت کی جان نکلی ہوئی ہے کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایک جلسے کی وجہ سے 3،3
ہزار افراد کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا ہو، انہوں نے ہم پر اتنی ایف آئی آرز قائم کر دی ہیں کہ اب ہمیں کسی ایف آئی آر کو خوف ہی نہیں ہے۔ میری گرفتاری کی صورت میں اس تحریک کی قیادت عوام کریں گے۔پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس سے متعلق مریم نواز نے کہا کہ آج کا اجلاس بہت اہم ہے، یہ عوام کو مشکلات سے نکالنے اور انہیں ریلیف دلانے کی تحریک ہے، جو اب اس حکومت کو گھر بھیج کے ہی دم لے گی۔ پی ڈی ایم میں استعفوں سمیت بہت سے چیزیں زیرغور ہیں اور کئی پر حتمی فیصلہ جلد متوقع ہے۔









