جج ارشد ملک کی وفات کورونا نہیں بلکہ کس وجہ سے ہوئی، بیٹے نے وجہ بتادی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) احتساب عدالت کے جج ارشد ملک آج صبح ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے جہاں گذشتہ تین ہفتوں سے ان کا نمونیہ کاعلاج ہو رہا تھا۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ارشد ملک کا انتقال کورونا کی وجہ سے ہوا تاہم اب ان کے بیٹے نے وضاحتی بیان دیتے ہوئے کہا کہ والد کی موت کورونا کی وجہ سے نہیں بلکہ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ارشد ملک کے بیٹے نے بتایا کہ والد کا کورونا ٹیسٹ کروایا گیا تھا لیکن ٹیسٹ کا نتیجہ منفی آیا تھا۔احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک ایک ہفتے سے وینٹی لیٹر پر تھے، اور شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد میں زیر علاج تھے۔

ارشد ملک کے اہل خانہ نے بھی ان کی وفات کی تصدیق کر دی ہے، انھوں نے سوگواران میں 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔یاد رہے کہ جج ارشد ملک نے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نوازشریف کو 24 دسمبر 2018ء کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کر دیا تھا۔6 جولائی 2019ء کو نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ایک مبینہ آڈیو ووڈیو ٹیپ سامنے لائی تھیں جس کے مطابق جج ارشد ملک نے دباؤ میں آکر یہ سزا سنائی تھی تاہم جج ارشد ملک نے اس کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔مریم نواز نے یہ مطالبہ بھی کیا تھاکہ چونکہ جج نے ویڈیو میں خود اعتراف کر لیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بعد ازاں اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ارشد ملک کو احتساب عدالت کےجج کے عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا، عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں