کراچی (نیوز ڈیسک) کراچی میں بچوں نے اپنی بوڑھی ماں کو مردہ قرار دیکرامریکا کی انشورنس کمپنی سے 25 کروڑ روپے ہتھیا لیے۔ ایف آئی اے نے ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنا شروع کردئیے۔تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں بچوں نے اپنی زندہ بوڑھی والدہ کو مردہ قراردیکرامریکا کی انشورنس کمپنی سے رقم بٹورلی۔ بیٹے کی گرفتاری کیلئے ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سیل کی چھاپہ مارکارروائی شروع کردی۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے ہیومن ٹریفکنگ سیل نےچالبازی کا مقدمہ یکم دسمبرکودرج کیاگیاتھا۔ سیما سلیم کھرنے امریکا کی انشورنس کمپنی سے دوپالیسیاں لی تھیں۔
پاسپورٹ اپلائی کرنے اورامریکن قونصل خانے پہنچنے پرخاتون کے زندہ ہونے کا انکشاف ہوا۔امریکن قونصل خانے کے اسسٹنٹ ریجنل سیکیورٹی اسکاٹ کی جانب سے درخواست موصول ہوئی۔ ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں خاتون کی موت کو حرکت قلب بند ہونا قراردیا گیا۔ خاتون کومردہ قراردینے کیلئےفشرمین مورناقبرستان کی رسید مہیا کی۔امریکی انشورنس کمپنی سے رقم ملنے کے بعد فہد سلیم نے پاکستان کا دورہ بھی کیا اور انشورنس کی رقم پاکستان منتقل کرنے کے لیے فہد سلیم نے کراچی میں 2 بینک اکاؤنٹ بھی کھلوائے جس میں سے ایک دھوراجی اور دوسرا جھیل پارک میں کھلوایا گیا۔ ذرائع کے مطابق انشورنس کی رقم کے حصول کے لیے بنوائے گئے بوگس ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں سیکریٹری یونین کونسل 6 شاہ بیگ لین لیاری ممتاز علی عباسی نے ان کی معاونت کی جب کہ سندھ گورنمنٹ لیاری جنرل ہسپتال کےسینئر میڈیکل افسر ڈاکٹرحسین اختر نے انھیں ڈیتھ سرٹیفکیٹ فراہم کیا۔ذرائع کے مطابق ڈیتھ سرٹیفکیٹ میں خاتون سیما سلیم کاربے کی موت کو حرکت قلب بند ہونا قراردیا گیا ، خاتون کومردہ قراردینے کےلیے فشرمین مورنا قبرستان کی رسید بھی فراہم کی گئی۔









