لاہور (نیوز ڈیسک)پی ڈی ایم نے 13 دسمبر کو لاہور میں جلسہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جس کی میزبانی مسلم لیگ ن کرے گی۔ پی ڈی ایم کے لاہور جلسے سے متعلق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں مسلم لیگ ن کےسینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کورونا کے باوجود اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے بچوں کے لیے گھروں سے باہر نکلیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا پر حکومت پراپیگنڈہ کر رہی ہے، حکومت کورونا کا رونا رو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 13 دسمبر کو پی ڈی ایم کا لاہور جلسہ ، جس کی میزبان پاکستان مسلم لیگ ن ہے، جو لاہور میں ہونے جا رہا ہے،
وہ تمام پچھلے جلسوں سے بڑھ کر ہو گا اور مثالی جلسہ ہو گا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جہاں تک کورونا کی بات ہے ، اور حکومت جس طرح سے کورونا پر پراپیگنڈہ کر رہی ہے، یقیناً اُس کے اثرات تو ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود ہم عوام سے اپیل کریں گے کہ وہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈال کر اور ہر قیمت پر پاکستان ، قوم اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اور ناجائز اور سلیکٹڈ حکومت کے خاتمے کے لیے جلسہ گاہ پہنچیں۔ اور اپنی موجودگی سے تمام قوتوں کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان کی عوام اپنے ووٹ کی عزت چاہتے ہیں ، پاکستان کی عوام ووٹ کے فیصلے کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں۔ہم سب کی عزت و احترام چاہتے ہیں لیکن آئین میں جو درج ہے ، جس پر پوری قوم متفق ہے ، اُس کے مطابق جس کے ذمے جو ہے وہ کرے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ ملک جس کے لیے بنا تھا سب اُسی طرف آجائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب 2015ء میں جب نواز شریف نے مل بیٹھ کر گھر کو ٹھیک کرنے کی بات کی تھی تب انہیں مودی کا یار کہا گیا تھا۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو(نیب ) نے مسلم لیگ (ن)کے رہنماءرانا ثناء اللہ کے اثاثوں سے متعلق رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دی،راناثناء اللہ اور ان کے گھرانے کی 24 پراپرٹیز سامنے آئیں۔نیب کی جانب سے رانا ثناء اللہ کے اثاثوں سے متعلق لاہور ہائیکورٹ جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کیخلاف 3 مختلف شکایات موصول ہوئیں، 3 دسمبر 2019 کو آمدن سے زائد اثاثوں کیخلاف انکوائری شروع کی گئی، انکوائری میں رانا
ثناء اللہ اور ان کے گھرانے کی 24 پراپرٹیز سامنے آئیں ،جائیدادوں میں پلازے، کمپنیاں، گھر، فارم ہاؤسز اور زرعی زمین شامل ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کی جائیدادیں لاہور اور فیصل آباد میں واقع ہیں، رانا ثناء اللہ کی ایک پرائیویٹ لیمیٹڈ کمپنی آر ایس کے بھی ہے، رانا ثناء اللہ کے اثاثوں کی کل مالیت اربوں میں ہے۔نیب نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہےکہ انکوائری میں پتہ چلا کہ اثاثوں کی اصل مالیت ظاہر نہیں کی گئی ،رانا ثناء اللہ نے 2015،16 اور 2017 میں مختلف سوسائٹیز میں کروڑوں کی سرمایہ کاری کی، تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ ن لیگی رہنماء نے اثاثوں کی جو مالیت ظاہر کی وہ مارکیٹ ویلیو سے کم ہے،رانا ثناءاللہ کے اثاثے ان کی آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔









