پی ٹی آئی رہنما الیکشن میں شکست پر پھٹ پڑے،شکست کی اصل وجہ بتادی

کراچی(نیوز ڈیسک)پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عامرلیاقت حسین نے کہا کہ میں کراچی میں ایک شناخت رکھتا ہوں۔پارٹی کے کسی ارکان نے مجھ سے کوئی رابطہ کیا نہ ہی کوئی مشورہ کیا۔اگر مشورہ لیا ہوتا تو جیت یقینی تھی۔ ڈاکٹر عامرلیاقت نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے یہاں سے 2002 کا الیکشن بھی لڑا اور جیتا اور آج 10 سال بعد جب میں دوبارہ آیا تو بھی الیکشن جیت گیا۔ کراچی کی قیادت کو پتہ نہیں ہے کہ کراچی کے ووٹرزکوکس طرح موٹیویٹ کیا جاتا ہے اور اس سارے الیکشن میں عامر لیاقت حسین کو استعمال ہی نہیں کیا گیا۔ اور اس کے علاوہ ٹکٹ دیتے ہوئے مشاورت بھی نہیں کی گئی

حالانکہ آپس میں مشورہ کرنے کا حکم قرآن نے بھی دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں جماعتوں نے یہاں کوئی کام نہیں کروایا اورافسوسناک بات یہ ہے کہ پانی کے قریب ہوتے ہوئے بھی اس حلقے میں پانی فراہم نہیں کیا گیا۔ تحریک انصاف نے یہاں کام کیا تھا لیکن امیدوار مناسب کھڑا نہیں کر سکی۔ الیکشن ہارنے میں کراچی کی تنظیم زیادہ قصور وار ہے۔خیال رہے کہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا جس پر باقی سیاسی جماعتوں نے تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے نتائج ماننے سے یکسر انکار کر دیا ہے ، جب کہ پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدوار نے دو پولنگ اسٹیشن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست بھی دے دی ہے ، پی ٹی آئی امیدوار امجد آفریدی نے دو پولنگ اسٹیشنز میں الیکشن کمیشن سے دوبارہ گنتی کی درخواست کی اور کہا پولنگ اسٹیشن 260، اور 261 میں دوبارہ گنتی کروائی جائے ، پی ٹی آئی امیدوار نے الیکشن کمیشن کو دی گئی پہلی درخواست میں کہا کہ گنتی میں شفافیت کو نظر انداز کیا گیا، دوسری درخواست میں انہوں نے الیکشن کمیشن کو 21 پولنگ اسٹیشنز میں فارم 45 کے حصول میں مشکلات سے آگاہ کیا، جب کہ تیسری درخواست میں بعض پولنگ اسٹیشنز میں ری پولنگ کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں