کراچی(نیوز ڈیسک) کراچی کے حلقہ این اے 249 میں آج ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل جاری ہے جو شام پانچ بجے تک جاری رہے گا۔ ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی فردوس شمیم نقوی حلقہ میں داخل ہو گئے جس پر انہیں فوری طور پر حلقے سے نکلنے کا حکم دے دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کے ضمنی الیکشن کے دوران تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی اور بلال غفار حلقہ میں داخل ہوئے جس کے بعد انہیں فوری طور پر حلقے سے نکلنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر ندیم حیدر کی جانب سے پولیس کو لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ پولنگ کے دوران رکن اسمبلی نہیں آسکتے، فردوس نقوی اور بلال غفار کو فوری طور پر حلقے سے نکلنے کا کہا جائے۔ڈی آر او ندیم حیدر نے بتایا کہ رکن قومی اسمبلی فردوس شمیم نقوی کو فون پر فوری حلقے سے نکلنے کا حکم دیا ہے، پولنگ کے دوران منتخب پارلیمنٹرینز کا حلقے میں آنا غیرقانونی ہے۔کراچی کے حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب کیلئے پولنگ کا عمل جاری ہے، جو بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔ مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل، تحریک انصاف کے امجد آفریدی اور پی ایس پی کے مصطفی کمال کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔کراچی کے ضلع غربی و کیماڑی میں واقع قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 کے ضمنی انتخاب کے لئے مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل، چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال، پیپلزپارٹی کے قادر خان، پی ٹی آئی کے امجد آفریدی، کالعدم ٹی ایل پی کے مفتی نذیر کمالوی، ایم کیو ایم پاکستان کے محمد مرسلین سمیت 30 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔بلدیہ ٹاون، اتحاد ٹاون، سعید آباد، رشید آباد سمیت دیگر علاقوں کے مکین 276 پولنگ سٹیشنز پر ووٹ کاسٹ کریں گے۔ حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 1 لاکھ 37 ہزار 935 ہے جبکہ مرد ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 1 ہزار 656 ہے۔ حلقے کے 184 پولنگ سٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 92 پولنگ سٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔پولنگ سٹیشنز کے باہر پیرا ملٹری فورس اور مجموعی طور پر 5 ہزار سے زائد سیکورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ حالیہ سینیٹ انتخابات میں کامیابی کے بعد پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا نے اس نشست سے استعفی دیا تھا۔ 2018 کے عام انتخاب میں ن لیگ کے شہباز شریف اس حلقے سے دوسرے نمبر پر آئے تھے۔









