فیصل آباد(نیوز ڈیسک) جماعت اسلامی کے امیرسراج الحق نے کہا ہے کہ تحریک لبیک کے بارے میں حکومتی کاروائی ایف اے ٹی ایف کی انتظامیہ کو خوش کرنے کے لئے پر ی پلانڈ پروگرام ہے،الیکشن کمیشن نے جس پارٹی کورجسٹرڈ کیا ہو حکومت کے پاس اس کو کالعدم قرار دینے کا کوئی حق نہیں آئی ایم ایف کے نمائندے حفیظ شیخ نے ملک معیشت کا بڑا غرق کردیا ،مافیا کے نام پر عوام کو ڈرایا جارہا ہے ، مافیاز خود وزیر اعظم کے دائیں بائیں موجود ہیں، وزیر اعظم ٹھیک کہتے ہیں کہ جدھر دیکھتا ہوں مافیا ہی مافیا نظر آتا ہے،آئی ایم ایف کی شرائط پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جا رہا ہے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کرونا سے جاں بحق ہونے والے جماعت اسلامی کے رہنما ومیڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعیدکی نماز جنازہ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں ویکسین مفت فراہم کی جارہی ہے جبکہ ہمارے ملک میں ہسپتالوں سے ویکسین چوری ہو رہی ہے۔ڈاکٹرزاور پیرامیڈیکل سٹاف کی ایک بڑی تعداد کورونا کی وجہ سے شہید ہوئی مگر حکمران ان فرنٹ لائن کے مجاہدین کی بجائے اپنی اور اپنے اہل خانہ کو پہلے ویکسین لگوا رہے ہیں، عالمی مالیاتی ادارے کی ڈکٹیشنز ملک کی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے،وزراء کی تبدیلی سے ثابت ہوگیا کہ حکومت ناکام ہو چکی ہے،چار بار وزیرخزانہ تبدیل کرنے سے ثابت ہو گیا ہے کہ ان کہ پاس حکومت کر نے کی صلاحیت ہی نہیں ، سارا ٹبر ہی نالائقوں پر مشتمل ہے ،ایک نالائق کو اٹھا کر ادھر سے ادھر کر کے عوام کو تبدیلی کی نوید سنا دی جاتی ہے، حکومت اپنا اور قوم کا وقت ضائع کررہی ہے،ان کا اپنا کوئی وژن نہیں بلکہ آئی ایم ایف کی ایجنڈا پر عمل درآمد کرہی ہے، ان کے پاس ایک شخص بھی ایسا نہیں جو وزارت خزانہ کا اہل ہو،حکومت نے اڑھائی سال یو ٹرنز میں گزار دیئے ہیں۔عوام حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیںدنیا بھر میں عوام کو خوف میںڈالنے کی بجائے احتیاطی تدابیر بتائی جاتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں حکومتی سطح پر عوام کو خوفزدہ کیا جارہا ہے،دنیا بھر کی حکومتیں عوام کو اس وباء کے دنوں میں ریلیف فراہم کررہی ہیں جبکہ ہماری حکومت عوام کولاوارث چھوڑ رکھا ہے ،
خود حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ ہسپتالوں میں بیڈ زاورونٹی لیٹرز نہیں تو حکومت بتائے اس نے گزشتہ ایک سال میں کیا کیا ہے،گزشتہ برس جو حالات تھے عوام کو اب بھی انہی حالات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جرمن چانسلر نے ویکسین کے لئے تین ہفتہ تک اپنی باری کا انتظار کیا جبکہ ہمارے حکمران نے سب سے پہلے خود انجکشن لگوایا جبکہ وزراء نے اپنے خاندانوں اور عزیزواقارب کو میرٹ سے ہٹ کر پہلے انجکشن لگوائے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناکام حکومت ہے،حکومت صرف اعلانات تک محدود ہے،لنگرخانوں کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے ،
دور دراز سے لوگ کیسے لنگرخانوں تک رسائی حاصل کرسکیں گے،عوام کو دھوکہ دیا جارہا ہے،ابھی رمضان شروع نہیں ہوا کہ چیزیں غائب ہو گئی ہیں،ایک کلو چینی کے لئے روزہ دار دربدر ہو رہے ہیں ،اتنی بھاری مقدار میں درآمد ہونے والی چینی کہاں غائب ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم میں کوئی فرق نہیں ،ان کی پالیسیاں ایک ہیں،ان کو ڈکٹیٹ کرنے والے ایک ہیں، ان کے اختلاف صرف اسٹیبلشمنٹ کی چوسنی پر ہے کہ پہلے کس کو ملے۔انہوں نے کہاکہ وفاقی کابینہ میں ردو بدل سے عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے سے ان کی
کارکردگی بہتر نہیں ہوسکتی۔ شوکت ترین تحریک انصاف کی ڈھائی سالہ حکومت کے چوتھے وزیر خزانہ ہیں جبکہ اس سے قبل اسد عمر، حفیظ شیخ، حماد اظہر بھی معیشت کو درست کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔قوم کو تبدیلی کے نام پر دھوکہ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے۔ موجودہ حکمران بھی سابقین کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ عوام کے مسائل میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والوں نے عوام کو صرف مایوس ہی کیا ہے۔









