اسلام آباد (نیوز ڈیسک)حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد تنظیم کے اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ تحریک لبیک کے مرکزی عہدیداروں کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بلاک کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے اثاثےمنجمد کیے جانےکی کارروائی انسداد دہشتگردی ایکٹ1997کے تحت کی جا رہی ہے، کارروائی انسداد دہشتگردی ایکٹ کی شق 11 ای ای کے تحت کی جا رہی ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ اثاثے منجمد کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک اور صوبائی محکمہ ریوینیو کردار ادا کریں گے،
اس کے علاوہ کالعدم جماعت کے عہدیداروں،کارکنوں کو جاری اسلحہ لائسنسز بھی منسوخ کیے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق ٹی ایل پی کے مرکزی عہدیدار زمینوں کی خرید و فروخت نا ہی بینک اکاؤنٹس استعمال کر سکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے اثاثوں کی تفصیلات کے لیے وفاقی حکومت نے چاروں صوبوں کو ہدایات دے دی ہیں۔اس سے قبل تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کیلئے وفاقی کابینہ سے سرکولیشن سمری کے ذریعے منظوری لی گئی تھی۔ کابینہ ڈویژن نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی کی منظوری دی۔ وزارت داخلہ نے گزشتہ روز مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کیلئے سمری تیار کی تھی، سمری کا مسودہ وزیراعظم عمران خان کو بھیجا گیا تھا جو انہوں نے منظور کر لیا تھا۔پنجاب حکومت نے تحریک لبیک پابندی کی سفارش کی تھی، جس کے بعد گزشتہ روز وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔بدھ کے روز وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کیا گیا۔









