ن لیگ نے تحریک لبیک پر پابندی کی مخالفت کردی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن نے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کی مخالفت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق حکومت کی جانب سے تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیے جانے پر مسلم لیگ ن کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما ن لیگ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ درست نہیں ہے، اس معاملے کا کوئی دوسرا حل نکالا جائے۔یہ حکومت کی نااہلی ہے کہ مذہبی جماعت کے سربراہ کی گرفتاری کے وقت ملک بھر میں سیکورٹی کے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس موقع پر رہنما پیپلز پارٹی

چوہدری منظور حسین نے بھی تحریک لبیک پر پابندی عائد کرنے کے طریقہ کار پر اعتراض کیا، انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ جماعت دہشت گردی میں ملوث ہے۔واضح رہے کہ بدھ کے روز وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کے دوران تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جارہی ہے، یہ فیصلہ اینٹی ٹیرارزم ایکٹ 1997ء 11 (بی) کے تحت کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے ایمبولینسز کو روکا ، راستے بند کیے۔ دو پولیس اہلکار شہید ہوئے 340 زخمی ہوئے۔اسلام آباد میں پولیس سے رائفل چھین کر فائرنگ کی گئی۔ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے بھی مطالبات منوانے کی کوشش کی۔جن پولیس والوں کو اغوا کر کے مطالبات کیے جارہے تھے وہ اہلکارواپس تھانے پہنچ گئےہیں۔ اس ملک میں ختم نبوت کو کوئی ڈر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے تنظیم پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ ہم پابندی سے متعلق سمری کابینہ کو بھیج رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مظاہرین ہر صورت فیض آباد اوراسلام آباد آنا چاہتے تھے ۔ ہم قرار داد اسمبلی میں اتفاق رائے سے پیش کرنا چاہتے تھے۔ شیخ رشید نے کہا کہ مذاکرات میں گنجائش رکھی جاتی ہے، ریاست کے معاملات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ مذاکرات پر آنے سے پہلے یہ لوگ سوشل میڈیا پر

پلاننگ کرکے آتے تھے، انہوں نے کہا کہ آج ہم نے ان کو ڈونیشن دینے والوں سے بھی باز پرس کی ہے، وہ ایسا مسودہ چاہتے تھے جس میں سارے لوگ یہاں سے فارغ ہوجائیں ۔یہ ایسا مسودہ چاہتے تھے کہ یورپ کے سارے لوگ ہی واپس چلے جائیں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ یہ لوگ وہ مسودہ چاہ رہے تھے جس سے پاکستان کا انتہا پسندی کا تاثر جائے۔ہم نے نہیں انہوں نے حکمت عملی بنائی ہوئی تھی، ہم نے جو معاہدہ کیا ہوا تھا ہم اُس پر قائم تھے۔ شیخ رشید نے کہا کہ ختم نبوت کے قانون میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔ اب قرارداد وہی آئے گی جس سے دنیا میں پیغام عاشق رسول ﷺ

جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ سوشل میڈیا پر بتا کر آتے تھے کہ کون سی سڑکیں بند کرنی ہیں، سوشل میڈیا کےذریعے سڑکوں پر بد امنی پھیلانے والوں کا قانون پیچھا کرے گا۔ تاہم اب جی ٹی روڈ اور موٹر وے بحال ہے۔ تحریک لبیک والے اور مذہبی جماعت کے سوشل میڈیا چلانے والے لوگ سرینڈر کر دیں ، آپ غلطی پر ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے مزید کہا کہ میں نے کبھی بھی اس جماعت کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کبھی خادم حسین سےملا، جو ایف آئی آر ہوئی ہیں وہ قانون کے مطابق ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں