میٹرو ٹریک بند کرنیوالے مظاہرین قانون کی گرفت میں، ویڈیو وائرل

راولپنڈی (نیوز ڈیسک) صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں رینجرز اور پولیس نے مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس کا ٹریک بند کرنے والے احتجاجی مظاہرین کو گرفتار کرکے ان سے پریڈ کروادی ، جس کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اور رینجرز اہلکاروں نے میٹرو ٹریک بند کرنے والے مظاہرین کو گرفتار کیا ہوا ہے اور راولپنڈی کے میٹرو بس ٹریک پر گرفتاری کے بعد مطاہرین کی ایک لمبی لائن لگی ہوئی ہے ، جن سے رینجرز اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے پریڈ کراوئی جارہی ہے۔

خیال رہے کہ ملک بھر میں احتجاج کرنے والے مذہبی تنظیم کے مظاہرین کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا ، جس کے بعد کئی شہروں میں بند سڑکیں کھول دی گئیں ، راولپنڈی کے علاقے لیاقت باغ میں بھی پولیس اور رینجرز نے مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا ، جس کے نتیجے میں مظاہرین سے لیاقت باغ کو خالی کروانے کے بعد علاقے میں ٹریفک بھی بحال کردی گئی ، تاہم اس دوران مظاہرین کی جانب سے لیاقت باغ میں توڑ پھوڑ کی گئی جس میں باغ کے جنگلے توڑ دیئے گئے اور بینچز کو آگ لگا دی ، اسلام اباد کے نواح میں واقع بارہ کہو کے علاقے میں میں پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کردی گئی جہاں رات 3بجے تک مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں جاری رہیں جس کے بعد بارہ کہو میں پولیس اور رینجرز کی موجودگی میں ٹریفک کھول دی گئی جب کہ فیض آباد پل پر بھی پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر قصورمیں بھی مذہبی جماعت کے دھرنے کے خلاف پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے فیروز پور روڈ مین بائی پاس آپریشن کے بعد کھول دیا جب کہ اس دوران ملاں والا بائی پاس پتوکی میں پولیس اور مظاہرین جھڑپ ہوئی جس میں ڈی ایس پی ، متعدد ایس ایچ اوز سمیت درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تاہم پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا جب کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔کراچی کے بیشتر علاقوں سے مظاہرین کو منتشر کرکے ٹریفک بحال کرادی گئی ہے، ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ

کراچی میں صرف ایک مقام بلدیہ ٹاؤن میں حب ریور روڈ پر احتجاج جاری تھا، تاہم اب وہاں بھی دھرنا ختم کرادیا گیا ہے، اور حب ریور روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، اب شہر میں کسی جگہ بھی ٹریفک کی روانی متاثر نہیں ہے اور شہر کے تمام راستے اس وقت کھلے ہوئے ہیں۔ساہیوال میں بھی ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ کو 24 گھنٹے کے بعد مظاہرین کو ہٹا کر ٹریفک کے لیے کھلوا لیا ہے، اس دوران مظاہرین کے پتھراو سے 1 ایس پی، اور دو ڈی ایس پیز سمیت 51 پولیس افسران و اہلکاران زخمی ہوئے، جنہں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تلہ گنگ میں بھی بین

الصوبائی شاہراہ پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں جاری ہیں، اور پولیس اہلکار کے خلاف آنسو گیس کی شیلنگ کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ملتان پولیس کے مطابق شہر کی مختلف شاہراہوں پر پولیس اور مطاہرین کے مابین جھڑپیں جاری رہیں اور اس دوران 97 کے قریب پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں 66 کانسٹیبل،12 ہیڈ کانسٹیبل، 6 اے ایس آئی، 6 سب انسپکٹرز،5 انسپکٹرز اور 2 ایس ڈی پی او شامل ہیں، تاہم پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرکے دھرنا ختم کرادیا ہے اور تمام شاہراہیں معمول کے مطابق کھل گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں