لاہور(نیوز ڈیسک) لاہور کے مختلف علاقوں میں مذہبی جماعت کے کارکنوں کا احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین نے جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی کے گیٹ پر دھاوا بول دیا، مشتعل افراد کا پتھراؤ، پولیس اور سکیورٹی گارڈ بے بس ہو گئے۔مذہبی جماعت کے احتجاج کی وجہ سے مسلسل تیسرے روز لاہور سمیت دیگر شہروں میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہے۔ لاہور میں اہم شاہراہیں بند ہونے سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔تاہم فیصل آباد اور راولپنڈی میں راستے کھلنے سے ٹریفک بحال ہو چکی ہے جبکہ کراچی کے بلدیہ ٹاون میں حب ریور روڈ کو بھی عام شہریوں کیلئے کھول دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں جنرل ہسپتال کے قریب ایک پولیس اہلکار عوام کی حفاظت پر مامور تھا کہ مذہبی جماعت کے کارکنوں نے اس پر شدید تشدد شروع کر دیا۔ پولیس اہلکار جان بچانے کیلئے بھاگا اور جنرل ہسپتال میں پناہ لے لی۔ ہسپتال کے گیٹ بند ہونے پر مشتعل مظاہرین نے اس پر دھاوا بول دیا ور توڑ پھوڑ شروع کر دی۔دوسری جانب ، ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ ٹھوکر نیاز بیگ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے اور ملتان روڈ پر ٹریفک کی آمد و رفت جاری ہے، داتا صاحب، راوی پل، والٹن چوج، محافظ ٹاؤن اور جوڑے پل کو بھی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے، اچھرہ بازار، جی پی او چوک اور نواز شریف انٹر چینج کو بھی کلئیر کر دیا گیا ہے۔راولپنڈی کے مختلف مقامات پر بھی ٹی ایل پی کے مظاہرین کا احتجاج اور دھرنے جاری ہیں، اور کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں سے متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، لیاقت باغ چوک پر پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی گئی جب کہ مظاہرین بھی پولیس پر پتھراؤ کررہے ہیں، مری روڈ پر جھڑپوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، اور ایس ایچ او وارث خان یاسر محمود عباسی شدید زخمی ہوگئےجنہیں احتجاج میں شامل افراد نے طبی امداد کے اسپتال منتقل کیا۔راولپنڈی میٹرو بس ٹریک میدان جنگ بن گیا ہے، اور رینجرز اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، فورسز کی جانب سے شدید شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال ہورہا ہے، رینجرز نے میٹرو ٹریک پر مظاہرین کو دونوں جانب
سے گھیر کر لاٹھی چارج کیا، جس میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے، رینجرز نے میٹرو ٹریک کا قبضہ حاصل کرکے متعدد افراد کو گرفتار لیا، جس کے بعد مری روڈ پر مظاہرین نے متعدد املاک کو آگ لگا دی، لیاقت باغ چوک کا کنٹرول 2 روز سے مظاہرین کے پاس تھا، جسے رینجرز نے خالی کرالیا اور مظاہرین کو منتشر کرنے کے بعد متعدد افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔









