اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی،تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کا حکومتی فیصلہ جراتمندانہ قرار

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سینئرصحافیوں نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی حمایت کر دی۔تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس کے دوران تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت کیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی حالات کی وجہ سے نہیں تحریک لبیک کے کردار کی وجہ سے پابندی لگائی جارہی ہے، یہ فیصلہ اینٹی ٹیرارزم ایکٹ 1997ء 11 (بی) کے تحت کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے ایمبولینسز کو روکا ، راستے بند کیے۔ دو پولیس اہلکار شہید ہوئے 340 زخمی ہوئے۔اسلام آباد میں پولیس سے رائفل چھین کر فائرنگ کی گئی۔ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کو اغوا کر کے بھی مطالبات منوانے کی کوشش کی۔سینئر صحافیوں کی جانب سے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔معروف صحافی عادل شاہ زیب نے کہا کہ اگرچہ حالیہ ماضی میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے متعدد بار آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی / ٹی ایل پی انتخابی اتحاد کا اشارہ دیا لیکن حکومت کی جانب سے یہ تاخیر سے لیکن اچھا فیصلہ کیا گیا،سینئر صحافی محمد مالک نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان پر پابندی عائد کرنے کے لئے وزیراعظم آئی کے کا شکریہ۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی، پاکستانیوں کا قتل،عملی طور پر ہر ایک کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت کسی جتھے کو نہیں دی جاسکتی۔ ہمارے نبی اکرم ﷺ محبت امن اور رواداری کے لئے کھڑے تھے۔ اور ہم کسی کو بھی اس کے طریقوں پر سوال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے ہیں۔۔صحافی انس ملک نے حالیہ فیصلے کو حکومت کا جراتمندانہ اقدام قرار دے دیا۔واضح رہے کہ واضح رہے کہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پنجاب حکومت نے تنظیم پر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے،۔ہم پابندی سے متعلق سمری کابینہ کو بھیج رہے ہیں۔تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامن طریقے سے معاملات حل کرنے کے حق میں تھے،

ہمیں اپنے طور پرکام نہیں کرنے دیا گیا اور ضد کرتے رہے، مظاہرین ہر صورت فیض آباد اور اسلام آبادآنا چاہتے تھے، ہم قرار داد اسمبلی میں اتفاق رائے سے پیش کرنا چاہتے تھے۔وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ مذاکرات میں گنجائش رکھی جاتی ہے، ریاست کے معاملات کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ہماری بڑی کوششیں تھیں لیکن وہ ہر صورت فیض آباد آنا چاہتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں