پی ڈی ایم ٹوٹ پھوٹ کا شکار،پیپلز پارٹی نے اسٹیئرنگ کمیٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پاکستان پیپلزپارٹی نے حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کرنے پر پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف، شیری رحمان اور قمر زمان کائرہ آج پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی سے استعفے دیں گے۔ذرائع کا کہناہےکہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا مؤقف ہے کہ پی ڈی ایم سیاسی اتحاد ہے اور اس میں شامل کوئی جماعت کسی کے ماتحت نہیں لہٰذا شوکاز نوٹس دےکر دانستہ اپوزیشن اتحادکو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔

پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا ہےکہ پی ڈی ایم کو فعال رکھنا ہے تو پیپلزپارٹی اور اے این پی سے معافی مانگی جائے۔یاد رہےکہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) سے ووٹ مانگنے پر پیپلزپارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹس جاری کیے جس پر اے این پی نے اتحاد سے نکلنے کا اعلان کیا تھا۔دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی سی ای سی میٹنگ میں پی ڈی ایم کا شوکاز نوٹس پھاڑ دیا۔اسی حوالے سےلاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راناثناء اللہ نے کہا کہ یہ بات غلط ہے کہ (ن) لیگ پی ڈی ایم کو ٹیک اوورکرنا چاہتی ہے ، پی ڈی ایم میں تمام فیصلے مشاورت سے ہوئے، بلاول بھٹو زرداری نے نوٹس پھاڑ کر اچھی حرکت نہیں کی، انہوں نے جو عمل کیا وہ میری نظر میں مناسب نہیں۔رہنما (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ لینا بے اصولی ہے، قائد حزب اختلاف کے عہدے کے لئے پیپلز پارٹی حکومتی اراکین کے ووٹ نہیں لے سکتی، یہیں سے بات بگڑی ہے، پی ڈی ایم حکومت مخالف تحریک جاری رکھے گی۔رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ سلیکٹڈ ٹولے کی پالیسی انتقام کے سوا کچھ نہیں، انھوں نے اب اپنوں سے بھی انتقام لینا شروع کردیا ہے، سلیکٹڈ ٹولہ جلد اپنے انجام کو پہنچے گا، خوشاب کے عوام بھی انتقامی پالیسیوں کو مسترد کردیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں