اسلام آباد (نیوز ڈیسک)وفاقی وزی ہوابازی غلام سرور خان اپنی ہی حکومت پر پھٹ پرے ، انہوں نے کہا ہے کہ حکومت نے انڈسٹری ، سروسز سب کو ریلیف دیا مگر زراعت کو نہ دیا ، خدا کا خوف کرو ، اتنا ظلم اپنے زمیندار کے ساتھ نہ کیا جائے ، امپورٹڈ گندم 2400 روپے من پڑ رہی ہے اپنے زمیندار کو 1800 دے رہے ہیں ، گزشتہ سال ڈی اے پی 28 سو روپے تھی اس سال 5 ہزار ہے ، ڈھائی تین سال میں زرعی سیکٹر کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت زرعی مصنوعات پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی وزیر
غلام سرور خان نے کہا کہ میں کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں ، ہم کہاں کہاں سے گندم امپورٹ کر رہے ہیں لیکن اپنے زمیندار کو حکومت کچھ دینے کو تیار نہیں ہے ، ڈھائی تین سال میں زرعی سیکٹر کیلئے ہم کچھ نہیں کر سکے، زرعی سیکٹر کو ہم ریلیف نہیں دے سکے ، حکومت نے انڈسٹری، سروسز سب کو ریلیف دیا مگر زراعت کو نہ دیا ، 52 بلین کے پیکج کا اعلان ہوا تھا کم از کم اس کو یقینی بنایا جائے اور وہ ریلیز ہو ، غیر زرعی طبقے کی آواز میں زیادہ اثر ہے۔انہوں نے کہا کہ یں کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی، کابینہ میں بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے ، کابینہ میں بھی میں نے پوچھا تھا کہ گندم کہاں کہاں سے امپورٹ کر رہے ہیں ، امپورٹڈ گندم 2400 روپے من پڑ رہی ہے اپنے زمیندار کو 1800 دے رہے ہیں، اتنا ظلم اپنے زمیندار کے ساتھ نہ کیا جائے، سندھ نے جو ریٹ 2 ہزار رکھا وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ اجلاس کے دوران رکن کمیٹی محمد فاروق اعظم ملک نے شکوہ کیا کہ محکمہ زراعت کے افسران کو کہیں کام کریں نہ کریں کم سے کم ہمارا فون اٹھا لیا کریں ، محکمہ زراعت کے دفتر جائیں تو ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے اسمبلی کل ختم ہونے والی ہے۔









