ڈسکہ الیکشن کیس پرسینئرلیگی رہنما کا سپریم کورٹ سے سوال

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ن لیگی کے سینئر رہنما احسن اقبال کا ڈسکہ الیکشن کیس پر سپریم کورٹ سے سوال- تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب ٹویٹر پر اپنی ایک ٹویٹ میں سینئر لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ بتائے کہ اگر امتحانی پرچہ میں نقل کرتے ہوئے کوئی پکڑا جاتا ہے تو کیا وہی سوال کینسل ہوگا جس کی نقل پکڑی گئی ہو یا پورا پرچہ کینسل ہوتا ہے؟ انہوں نے مزید لکھا کہ اس مثال کی NA-75 سے مماثلت محض اتفاقیہ ہو گی۔واضح رہے کہالیکشن کمیشن پاکستان نے 19 فروری کو سیالکوٹ کے حلقہ این اے 75 کے ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی

کے حوالے سے کی جانے والی سماعت کے بعد 25 فروری کو اپنے مختصر فیصلے میں ’صاف شفاف، منصفانہ انتخاب‘ نہ ہونے پر اس انتخاب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ پورے حلقے میں 18 مارچ کو دوبارہ انتخابات کروائے جائیں لیکن بعد میں 10 اپریل کی تاریخ دی گئی۔الیکشن کمیشن میں مذکورہ حلقے میں ضمنی انتخاب کے دوران مبینہ دھاندلی کے خلاف دائر کردہ درخواست میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخاب کا مطالبہ کیا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے ان 20 پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست دی تھی جن کے نتائج روکے گئے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ آج ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کے معاملے پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے منظم دھاندلی اور فیصلے کی بنیاد بننے والے شواہد مانگ لیے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ پولیس تعاون نہیں کر رہی تھی تو متبادل انتظام کیوں نہیں کیا گیا ؟ الیکشن کمیشن کو منظم دھاندلی کے شواہد ثابت کرنا ہوں گے۔سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کے معاملے پر سماعت آخری مرحلے میں داخل ہوگئی۔ نون لیگی وکیل سلمان اکرم راجا کے دلائل مکمل ہو گئے، جبکہ الیکشن کمیشن نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کر دی۔سلمان اکرم راجہ نے موقف اختیار کیا کہ پورے حلقے میں ری پول کا فیصلہ برقرار رکھیں نہیں تو متنازعہ پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے، الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی عمل میں رکاوٹیں منصوبے کے تحت ڈالی گئیں۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دئیے کہ کمیشن نے اپنے فیصلے میں کسی منصوبے کا ذکر نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن کے وکیل میاں عبدالروف نے دلائل میں کہا کہ لاپتہ پریذائڈنگ افسران کی لوکیشن حلقے کے باہر کی تھی، رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کمیشن نے فیصلے کے بعد رپورٹ کیوں منگوائی، لوکیشن کی اب کوئی قانونی حیثیت نہیں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ سیکورٹی اقدامات اطمینان بخش نہیں تھے تو الیکشن کمیشن کو بڑھ کر اقدامات کرنا چاہیے تھے۔پولیس تعاون نہیں کر رہی تھی تو متبادل انتظام کیوں نہیں کیا گیا ؟ کیوں انتخابی عمل ملتوی کر کے پولیس کے خلاف کاروائی نہیں کی گئی ؟ الیکشن کمیشن کو منظم دھاندلی کے شواہد ثابت کرنا ہوں گے، دیکھنا ہوگا کہ کیا پریذائڈنگ افسران کے لاپتہ ہونے سے نتیجہ متاثر ہوا ؟ کیس کی مزید سماعت کل ہو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں