اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پشاور ہائی کورٹ نے ویڈیو ایپ ٹک ٹاک سے پابندی ہٹانے کا حکم دے دیا ہے جس پر اب وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی رد عمل دیا ہے۔۔عدالت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کو ہدایت کی ہے کہ وہ فحش مواد ہٹانے کے لیے اقدامات کرے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اچھے اور برے میں تفریق کرنے کا نظام ہونا چاہیے۔پی ٹی اے ایکشن لے گی تو ایسے ویڈیوز اپ لوڈ نہیں ہوا کریں گی۔عدالت نے پی ٹی اے کو غیر اخلاقی مواد رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔اسی پر وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے ہوئے عدالت کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں محتاط رہنا چاہئے ،ایسے فیصلے کرنے سے جو پاکستان کے معاشی مستقبل کو متاثر کر سکیں۔ہمیں بین الاقوامی کمپنیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے فریم ورک کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کی سرمایہ کاری کا مرکز بنایا جا سکے۔پشاور ہائی کورٹ نے11 مارچ کو پابندی لگائی تھی۔ چیف جسٹس قیصررشید خان نے ریمارکس دیئے تھے کہ ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ویڈیوز معاشرے کو قابل قبول نہیں۔ ٹک ٹاک ویڈیوز سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا ٹک ٹاک سے سب سے زیادہ نوجوان متاثر ہورہے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جب تک عہدہ دار تعاون نہیں کرتے اورآپ کی درخواست پر عمل نہیں کرتے اس وقت تک ٹک ٹاک بند کیا جائے۔









