اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹیلی ویژن چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا ہے کہ جہانگیر ترین کے خلاف 22 مارچ کو مقدمہ درج کیا گیا اور خبر جان بوجھ کر آج لیک کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان فاصلے بڑھانے کے لیے جہانگیر ترین کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔پروگرام می گفتگو کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے کہا کہ جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان فاصلے بڑھانے کیلئے مقدمہ درج کیا گیا۔
اس میں بہت سے ناقابل یقین حقائق ہیں۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ ہوتی ہے منشیات کے پیسوں کی جس پر ایف اے ٹی ایف پکڑتی ہے،آپ نے ہر تیسرے بندے کو منی لانڈرر بنا دیا ہے پھر تو ہر بزنس مین منی لانڈرنگ میں پھنس جائے گا۔عارف حمید بھٹی نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کس کس موبائل سے واٹس ایپ کہاں گئے اور کتنے بجے واپس آئے۔ اس کی ایک ڈرافٹ ایف آئی آر بنتی ہے اور یہ انگریزی بھی ایوسیٹی گیشن آفیسر کی نہیں۔پروگرام میں انہوں نے مزیدا نکشاف کیاکہ مریم نواز پنڈی میں ’خاص‘ جگہ سے چائے پی کر آئی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ شہباز شریف کی بھی اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات ہوئی ہے۔پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے پنڈی میں ’خاص‘ جگہ سے چائے پینے کے بعد ن لیگ سے گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے پنڈی میں ’خاص‘ جگہ سے چائے پینے کے بعد چند لوگ ’اُن‘ سے کافی نالاں ہیں۔ وہ چند لوگ غصے میں ہیں کہ مریم نواز سے گفتگو کا سلسلہ کیوں شروع کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ایک طرف پیپلز پارٹی کے لیے سافٹ کارنر رکھتی ہے تو دوسری جانب ن لیگ سے بھی بیک ڈور رابطے شروع ہو گئے ہیں۔









