لاہور (نیوز ڈیسک)سانحہ موٹروے کا مرکزی مجرم عدالت میں رو رو کر معافیاں مانگتا رہا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ہفتے کے روز سانحہ موٹروے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت کی جانب سے دونوں مرکزی مجرمان کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد مرکزی مجرم عابد ملہی عدالت میں جج کے سامنے رو پڑا۔ مجرم عابد ملہی عدالت میں رو رو کر کہتا رہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی مجھے معاف کر دیں۔انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے واقعہ میں ملوث عابد ملہی اور شفقت بگا کو سزائے موت کا حکم سنایا۔
عدالت نے دیگر دفعات کے تحت دونوں کو قید ، جرمانے اور جائیدادیں ضبط کرنے کی سزائوں کا حکم بھی سنایا ۔انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے جج ارشد حسین بھٹہ نے کیمپ جیل میں محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا ۔پولیس نے فیصلے سے قبل عابد ملہی اور شفقت بگا کو انتہائی سخت سکیورٹی میں خصوصی کمرہ عدالت میں پہنچایا جبکہ پراسیکیوشن ٹیم اور ملزمان کے وکلا ء بھی کمرہ عدالت پہنچے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عبدالجبار ڈوگر کے مطابق ملزمان کو ریپ کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت، یرغمال بنانے کے جرم میں عمر قید اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال کی قید سنائی گئی ہے۔دونوں مجرموں کو جان سے مارنے کی کوشش کا جرم ثابت ہونے پر دفعہ 440 کے تحت پانچ ،پانچ سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ دفعہ 337 ایف ون میں پچاس،پچاس ہزار روپے اور 337 ایف ٹو میں بھی پچاس،پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ دفعہ 382 بی کے تحت ملزمان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ ملزمان کو یہ حق بھی دیا گیا ہے کہ وہ سزا کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔









