اسلام آباد، فرانسیسی سفارتخانے کے باہر فائرنگ کرنے والے شہری کا بیان سامنے آ گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جمعرات کو ایک شخص کو غیر ملکی سفارتخانوں کے لیے مخصوص علاقے ڈپلومیٹیک انکلیو کے داخلی گیٹ پر فائرنگ کرتے ہو گرفتار کیا گیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس کو دئیے گئے ابتدائی بیان میں سرگودھا کے رہائشی منصور علی نے بتایا کہ وہ فرانس کے سفارتخانے پر حملہ کرکے فرانسیسی صدر سے مبینہ توہین رسالت کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔منصور علی کے تحریری بیان کے مطابق انہوں نے ایس ایم جی رائفل سرگودھا میں پولیس اہلکار سے چھینی اور اکیلے ہی پبلک ٹرانسپورٹ کے زریعے اسلام آباد پہنچے۔

جہاں انہوں نے فرانسیسی سفارتخا نے تک پہنچنے کے لیے پانچ فائر کیے۔منصور علی کے مطابق اس کارروائی میں اور کوئی شامل نہیں یہ سب کچھ انہوں نے تنہا ہی کیا۔اسلام آباد پولیس نے آج صبح 11 بجے ڈپلومیٹک انکلیو کے گیٹ نمبر کے قریب فائرنگ کا واقعہ ہوا جس میں نیو سیٹلائٹ ٹاون ، سرگودھا کے رہائشی منصور علی نامی شخص نے ’تاج دار ختم نبوت زندہ باد ‘ کے نعرے لگاتے ہوئے ہوائی فائر کیے۔اسلام آباد سیکرٹریٹ پولیس نے ملزم کو موقع سے ہی گرفتار کر لیا۔سیکریٹریٹ پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او میاں خرم کے مطابق ابھی تک اس واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی اور گرفتار ملزم محکمہ انسداد دہشرگردی کی تحویل میں ہے اور وہی اس سلسلے میں مزید کارروائی کریں۔واضح رہے کہ حکومتی سرپرستی میں فرانس میں ناموس رسالتﷺ کے حوالے سے خاکے شائع کیے گئے جس کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے اور حکومت سے فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی درخواست کی گئی۔فرانس کے بائیکاٹ کے علاوہ ملک بھر میں فرانسیسی پراڈکٹس کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی گئی تھی۔ مسلم امہ کے رہنماؤں کا کہنا تھاکہ فرانسیسی صدر کی وجہ سے فرانس میں اسلام اور مسلمان دونوں خطرے میں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں