پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی، نواز شریف اور فضل الرحمن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بڑی خبر آگئی

لاہور (نیوز ڈیسک) مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کا پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق دونوں رہنماوں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور پی ڈی ایم اتحاد کا آئندہ لائحہ عمل پرمشاورت کی گئی.ذرائع کے مطابق لانگ مارچ اوراستعفوں سے متعلق لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی گئی. دوران گفتگو اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے لانگ مارچ اور استعفوں کے علاوہ جیل بھرو

تحریک کے حوالے سے بھی مشاورت کی اور پیپلزپارٹی کا جواب ملنے کے بعد پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے پراتفاق کیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے سی ای سی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ استعفوں سے متعلق مشاورت کے لیے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس 4 اپریل کو ہوگا۔ واضح رہے پیپلزپارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ 4 اپریل کو ذوالفقارعلی بھٹو کی برسی کا جلسہ راولپنڈی میں منعقد کیا جائے گا۔ راولپنڈی میں ہونے والے جلسے کے مقام کا اعلان جلد کیا جائےگا۔ راولپنڈی جلسے کے بعد روایتی طور پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا بھی اجلاس ہوگا۔ پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں استعفے دینے کے معاملے پر وقت لے رکھا ہے کہ سی ای سی کے جالس میں استعفے دینے سے متعلق مشاورت کی جائے گی، سی ای سی جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔تاہم پی ڈی ایم اجلاس میں 10 جماعتوں میں 9 جماعتوں نے لانگ مارچ سے قبل استعفے دینے پر اتفاق کیا۔ جبکہ پیپلزپارٹی نے استعفوں کے معاملے کو سی ای سی کی رضامندی سے مشروط کردیا ہے۔ تاہم پی ڈی ایم نے پیپلزپارٹی کو مہلت دی ہے کہ چند روز میں اپنے مئوقف اسے آگاہ کردے۔ تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل بنایا جاسکے۔ تاہم پیپلزپارٹی کا اتفاق نہ ہونے پر پی ڈی ایم کا 26 مارچ کا لانگ مارچ بھی ملتوی کردیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26 مارچ کا لانگ مارچ پیپلزپارٹی کے جواب دینے تک ملتوی کردیا گیا ہے، امکان ہے اب لانگ مارچ کی تاریخ عیدالفطر کے بعد کی رکھی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں