پشاور (نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا عندیہ دے دیا۔ کامران بنگش نے کہا کہ مارکیٹوں کا وقت محدود کرنے پر بھی سوچ رہے ہیں۔معاون خصوصی کامران بنگش نے دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر بہت خطرناک ہے، صوبہ میں 20 فیصد بیڈز مریضوں کے زیر استعمال ہیں، 80 فیصد بیڈز خالی ہیں جن کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے، 70 یا 80 فیصد سے تعداد بڑھ جانے پر مکمل لاک ڈاؤن کرسکتے ہیں۔کامران بنگش کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی شرح بڑھی تو پھر سخت فیصلے کرینگے،
کیسز کی تعداد بڑھنے کے باعث لاک ڈاؤن لگ سکتا ہے، 9 اضلاع میں سکولوں کو بند کیا جا چکا۔ علاوہ ازیں کورونا کیسز کے پھیلاؤ کے باعث صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی سخت پابندیاں نافذ کردی گئیں ، بازار 8 بجے بند کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ، عالمی وباء کورونا وائرس کی تیسری لہر میں وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے صوبہ پنجاب کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی مردان ، نوشہرہ، ایبٹ آباد، سوات، صوابی اور مالاکنڈ میں بازار رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ، اس ضمن میں محکمہ داخلہ خیبر پختونخوا کی جانب سے ایک نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا۔نوٹی فکیشن کے مطابق ہر قسم کے بازار رات 8 بجے بند ہوجائیں گے تاہم ادویات ، بیکری، کریانہ اور دیگر ضروری اشیاء کی دکانیں کھلی رکھی جاسکیں گی جب کہ شادی ہالوں اور ریسٹورنٹس میں انڈور تقریبات ، شہر میں ہر قسم کی ثقافتی تقریبات اور کھیلوں کے انعقاد پر بھی پابندی عائد کردی گئی اس کے علاوہ صوبے میں تمام مزارات کو بھی بند کردیا گیا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ پبلک پارکس شام 6 بجے بند ہوجائیں گے، حفاظتی ماسک اور سماجی فاصلوں پر عمل لازمی ہوگا۔









