آدھا ایوان خالی ہوگیا تو پیپلزپارٹی کو بھی استعفے دینے پڑیں گے،مولانا فضل الرحمن

پشاور(نیوز ڈیسک) پاکستان ڈیموکرٹیک موومنٹ کے صدر اور سربراہ جمیعت علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آدھا ایوان خالی ہوگیا تو پیپلزپارٹی کو بھی استعفے دینے پڑیں گے، لانگ مارچ سے قبل 9 جماعتیں استعفوں پر متفق ہیں، اختلاف رائے کے باوجود پی ڈی ایم متحد ہے، پیپلزپارٹی کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں، ان کے مئوقف کا انتظار ہے۔انہوں نے پشاور میں تقریب سے خطاب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی باتوں کو افشاں کرنا بددیانتی ہے، اختلاف رائے کے باوجود پی ڈی ایم متحد ہے۔ کل کے اجلاس میں بھی اختلاف رائے پایا گیا،

لانگ مارچ سے قبل 9جماعتیں استعفوں پر متفق ہیں، پیپلزپارٹی نے سی ای سی سے مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے، ہماری کوشش ہے کہ پیپلزپارٹی کو سمجھ آجائے، ہم پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے پیپلزپارٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرآ دھا ایوان خالی ہوگیا تو انہیں بھی استعفے دینے پڑیں گے۔ آدھا ایوان خالی ہونے کے بعد بھی عام انتخابات کروانے پڑیں گے۔ اسی طرح آج اس سے قبل جے یو آئی کے صدر مولانا فضل الرحمان اور (ن ) لیگ کے قائد سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں پی ڈی ایم کی آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا۔دونوں رہنماؤں نے گزشتہ روز پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں ہونے والی گفتگو اور فیصلوں پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے تھے۔ استعفوں پر اختلافات کے بعد پی ڈی ایم نے لانگ مارچ ملتوی کردیا تھا۔مولانا فضل الرحمان نے بتایا تھا کہ پی ڈی ایم کی نو جماعتیں لانگ مارچ کو استعفوں سے منسلک کرنے کے حق میں ہیں جب کہ پیپلز پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں اور انہوں نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس تک اس حوالے سے مہلت مانگی ہے، لہذا پیپلز پارٹی کے استعفوں سے متعلق فیصلے تک 26 مارچ کو ہونے والے لانگ مارچ کو ملتوی تصور کیا جائے۔آصف زرداری نے اجلاس کے دوران نواز شریف سے کہا کہ آپ واپس آئیں جس پر مریم نواز نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں زندہ لیڈر چاہیں، ان کی لاشیں نہیں، کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے کہ انھیں وطن واپس بلائے، جس نے نواز شریف سے بات کرنی ہے، پہلے مجھ سے بات کرے، ہم میاں صاحب کو عمران خان جیسے قاتلوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں