لاہور (نیوز ڈیسک ) گزشتہ روز پی ڈی ایم کے اجلاس میں پتا چل گیا کہ اب اس تحریک میں دم خم نہیں رہااور اب یہ دیا ٹمٹمانے لگا ہے کہ آج یا کل اس تحریک کا دیا بجھ ہی جائے گا،تاہم اگر وجوہات پر غور کیا جائے تو پی ڈی ایم کی تحریک میں نفاق یا یوں کہیے کہ بگاڑ کی وجہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا الیکشن تھا۔سینیٹ کا چیئرمین یوسف رضا گیلانی جس کے پیچھے زرداری تھااور ڈپٹی چیئرمین عبدالغفور حیدری جو کہ جے یو آئی ف سے تعلق رکھتے ہیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے میدان میں تھے اور پی ڈی ایم کے یہ دونوں امیدوار ہار گئے۔
گیلانی کی ہار تو چلو سمجھ آنے والی ہے اور اس حوالے سے پی ڈی ایم ریلیف لینے کی غرض سے کورٹ میں جانے کا عندیہ بھی دے چکی ہے مگر پی ڈی ایم کے امیدوار عبدالغفور حیدری کی شکست تو واضح ہے کہ انہیں بالکل بھی ووٹ نہیں ملے۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے سینئر صحافی عارف حمید بھٹی نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان نے مریم نواز سے کہا کہ گیلانی کے وٹ ریجیکٹ ہو گئے اور وہ ہار گیا لیکن میرے بندے کو ووٹ کیوں نہیں پڑے اس بات پر مولانا فضل الرحمان مریم نواز سے خفا ہوئے کہ ن لیگ کے سینیٹرز نے ان کے بندے کو ووٹ نہیں دیے۔عارف حمید بھٹی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری نے بھی مولانا سے کہا ہے کہ آپ مریم نواز کے ساتھ چھپ چھپ کر اور تواتر سے بڑی میٹنگز کرتے رہے ہیں تو اب بلاؤ میاں نواز شریف کو کہ وہ یہاں ملک میں واپس ٓئیں ا ور ہم انہیں استعفے دیتے لانگ مارچ کی قیادت وہ کریں۔عارف حمید بھٹی نے کہا کہ ماضی کے اوراق سے اگر گرد جھاڑی جائے تو یہ بھی یاد آتا ہے کہ مولانافضل الرحمان بے نظیر بھٹو کی حکومت سے متعلق بھی بڑے فتوے دیا کرتے تھے کہ عورت کی حکمرانی جائز نہیں تو کہیں ایسانہ ہو کہ وہ مریم نواز سے بھی متعلق فتویٰ دے دیں کہ وہ حکومت نہیں کر سکتی۔چونکہ مولانافضل الرحمان اقتدرا ہیں تو لہٰذا وہ کل کو مریم نواز کے بارے میں بھی فتویٰ جاری کر سکتے ہیں۔









