جاوید لطیف کی بات ناقابلِ قبول ہے، اُن کیساتھ کیا کیا جائے گا؟شاہد خاقان عباسی نے اہم اعلان کردیا

لاہور(نیوز ڈیسک )مسلم لیگ ن کی رہنما جاوید لطیف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پارٹی کبھی ایسے بیانات نہیں دیتی۔اگر انہوں نے پاکستان کے بارے میں کہا ہے کہ پاکستان کیوں کپھے تو یہ غلط ہے۔ہماری جماعت کسی کو ہدایات نہیں دیتی ،یہ پی ٹی آئی کا کام ہے ہر روز وزراء کو کہا جاتا ہے کہ آج یہ جھوٹ بولنا ہے، ہماری جماعت میں یہ کام نہیں کیا جاتا۔ایک ایم این اے کو خود اتنی عقل ہونی چاہیے کہ اس نے کیا بات کرنی ہے یا نہیں نہیں ۔ اگر اس نے یہ بات کی تو یہ کم عقلی کی بات کی ہے۔کسی شخص کو یہ کہنے کا حق نہیں۔

ایک سیاستدان کے ساتھ جو کچھ اور سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔سیاستدان سولی پر لٹک گئی لیکن انہوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بات نہیں کی ۔جاوید لطیف کے خلاف ایکشن سے متعلق سوال پر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ان سے اس متعلق پوچھا جائے گا کیونکہ یہ ناقابل قبول ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل میاں جاوید لطیف کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے خطرناک بیان دیا گیا تھا۔ میاں جاوید لطیف کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو جب پاکستان آئی تھیں تب وہ خطرات سے آگاہ تھیں اور انہوں نے نام بھی لیے تھے۔ پھر ان کی شہادت کے بعد ان کے اہل خانہ نے تو پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا، لیکن اگر خدانخواستہ مریم نواز کو کچھ ہوا تو پھر پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے۔میاں جاوید لطیف نے مزید کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان والا ری پلے نہ کیا جائے، یہاں بڑا حادثہ ہو جائے گا۔ لیگی رہنما کا متنازعہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب قائد ن لیگ نواز شریف کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ ان کی صاحبزادی مریم نواز کو قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ جبکہ مریم نواز نے بھی اپنے ایک پیغام میں الزام عائد کیا کہ انہیں ناصرف دھمکیاں ملیں بلکہ گندی گالیاں بھی دی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں