لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ سے پیوستہ روز ن لیگ کے قائد نواز شریف نے ویڈیو بیان کے ذریعے اپنی بیٹی مریم نواز کی جان کو خطرے کا ایشو بنا کر جس طرح سے ریاستی اداروں اور دیگر ایجنسیوں کا نام لے کر الزامات لگائے اور ہرزہ سرائی کی اس پر سبھی محب وطن پاکستانی انہیں تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ یوں بغیر کسی ثبوت کے ملکی اداروں کو گھسیٹنے کا حق نواز شریف کے پاس نہیں ہے۔تاہم یہ بات تو واضح ہے کہ مریم نواز اور دیگر سیاسی قائدین کی زندگی کو تھریٹ تو ضرور ہیں۔اس حوالے سے ریاستی اداروں کی ذمہ داری تو بنتی ہے کہ انہیں سیکیورٹی مہیا کریں جبکہ ان لوگوں
پر خود کی بھی ایک ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی کا بندوبست کریں اورعوام میں آتے جاتے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ان کے آس پاس کون ہے۔مریم نواز کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار ظفر ہلالی نے اپنے پروگرام میں کہا کہ مریم نواز کی جان کو واقعی خطرہ ہے اس لیے انہیں جیل میں ڈال دینا چاہیے۔انہیں جیل کے ایسے سیل میں رکھا جائے کہ جہاں پرندہ بھی پر نہ مار سکے۔مریم نواز کو کچھ ہو گیا تو اس پر سیکیورٹی اداروں پر بھی انگلیاں اٹھیں گی اور ن لیگ بھی ایجنڈا سیٹ کرے گی لہٰذا مریم نواز کی جان قیمتی ہے اور ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ مریم نواز تو کیا کسی بھی سیاسی لیڈر کی جان نہیں جانی چاہیے اور ریاستی ادارے ان کی سیکیورٹی یقینی بنائیں۔جبکہ مریم نواز کی سیکیورٹی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان کی ضمانت کینسل کر کے جیل بھیج دیا جائے اور یہ حقیقت ہے کہ جیل سے زیادہ محفوظ جگہ کوئی اور نہیں ہے کیونکہ وہاں سیکیورٹی بھی زیادہ ہوتی ہے اور کوئی آ جا بھی نہیں سکتا۔ظفر ہلالی نے یہ بھی کہا کہ مریم نوا زکو ایسی جیل میں رکھا جائے جس کے پانچ چھے گیٹ ہوں اور کسی کو بھی مریم نواز تک پہنچنے کی اجازت نہ دی جائے۔ہفتے میں دو بار مریم نواز کی اس کے والد سے ویڈیو کال پر بات کرا دی جائے اور جب تک ان کی جان کے خطرے کا ایشو ٹل نہیں جاتا انہیں جیل میں ہی رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سے نواز شریف نے اداروں پر مریم نواز کی سیکیورٹی اور جان کے خطرے کا کہہ کر الزام لگائے ایساتو دشمن ملک کے لوگ بھی نہیں کرتے۔لہٰذا اب اداروں کو چاہیے کہ وہ جواب دیں اور مریم نواز کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنائیں۔









