ڈسکہ (نیوز ڈیسک) گزشتہ روز سیاسی کڑاہی میں بھی ابال آتا دکھائی دیا کہ صادق و امین ہونے کا دعوے کرنے اور اداروں پر کسی بھی قسم کا پریشر نہ ڈالنے بلکہ اداروں کی خود مختاری اور آزادی کی بات کرنے والی پی ٹی آئی حکومت پنجاب کی ترجمان فردوس عاشق اعوان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی۔ویڈیو میں دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان فون پر کسی کو ہدایات جاری کر رہی ہیں۔جس میں ان کے الفاظ ہیں کہ ”یہ بدمعاشی رانا ثناللہ کی ذرا کم ہو،پرچہ دے دیا اسے واسطے بیٹھے آں،سوچ سمجھ کے ایف آئی آر دینے اے تاکہ انہاں نوں کڑکی لگے۔“ بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ فردوس عاشق
اعوان صاحبہ پولیس کو ہدایات دے رہی ہیں کہ جو پرچہ دیا جا رہا ہے اس میں اچھی تگڑی دفعات لگانی ہیں تاکہ رانا ثنا ء اللہ کے خلاف صحیح شکنجہ کسا جا سکے۔ویڈیو کے پس منظر پر غور کیا جائے تو یہ ڈسکہ کا میدان لگتا ہے اوردعویٰ یہی کیاجا رہا ہے کہ ڈسکہ میں الیکشن کی رات یا اس سے ایک آدھ دن پہلے کی یہ ویڈیو ہے۔بلکہ مبینہ طور پر یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ رانا ثنا ء اللہ کو جب ڈسکہ پولیس گرفتار کرنے گئی تھی اور ناجائز اسلحہ کا کیس بنایا گیا تھا وہ یہی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحب کی ہدایت پر سب ڈرامہ رچایا گیا تھا۔تاہم ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کم از کم پی ٹی آئی کے صاف چلی شفاف چلی تحریک انصاف چلی کے علاوہ اداروں کی خود مختاری،اقربہ پروری اور جھوٹے مقدمات کی سیاست سے چھٹکارے کے دعوے کہاں گئے۔یہ تو آج بھی وہی کلچر ہے کہ مخالفین کے خلاف کیسز بنواؤ انہیں جیل میں ڈالو اور عوام کولالی پاپ دو۔بجلی کی قیمتیں 22بار بڑھ چلیں مگر گردشی قرضے میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔پی ٹی آئی حکومت نے ترقیاتی کام نہیں کیے کہ کرپشن کا دروازہ بند ہو مگر غریب کے لیے سانس لینا محال ہو گیا۔اب ایسے میں موجودہ حالات تو گزشتہ حکومتوں سے بھی بدتر نکلے ہیں۔تاہم اب اس ویڈیو پر پنجاب حکومت کو تو کم از کم وضاحت لازمی دیناہو گی کہ اصل ماجرا ہے کیا وگرنہ پی ٹی آئی حکومت بھی سابق حکومتوں کی طرح صادق وامین کے درجے پر فائز رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔









