اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ ثابت ہوگئی، یہودی اور مودی کا یار غدار ہے،5 فروری کولیاقت باغ میں ان کا جنازہ نکالیں گے، مولوی جنازہ پڑھ کے چھوڑتا ہے، ہم ان کو نکال کردم لیں گے، غیرت مند مولوی یہودیوں اور ہندوؤں کے ماہانہ 10ہزار پر لعنت بھیجتے ہیں، مشکوک شخص کو کرسی پر بٹھانے والے بھی مشکوک ہوجاتے ہیں۔انہوں نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیخلاف الیکشن کمیشن اسلام آباد دفتر کے باہر پی ڈی ایم کی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج حکمرانوں کوایک نمونہ دکھایا ہے کہ جب لانگ مارچ ہوگا تو کیا ہوگا۔
8 اگست 2018ء کو اسی جگہ مظاہرہ کرکے الیکشن کو متفقہ طور پر مسترد کیا تھا، آج بھی کہتے ہیں یہ حکومت منتخب نہیں ، اس کو ملک پر حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ہے، الیکشن کمیشن منصفانہ انتخابات نہیں کرواسکے، کچھ طاقتور اداروں نے الیکشن پر قبضہ کیا ، مرضی کے نتائج مرتب کیے، قوم پر ڈفلی بجانے والے کو مسلط کردیا، جس کے پاس معیشت چلانے ، سیاست کرنے کی صلاحیت نہیں ہے، ایک نااہل حکمران کو اس لیے کرسی پر بٹھایا گیا کہ یہ احمق سامنے رہے گا اس کے پیچھے طاقتور ادارے حکومت چلائیں گے۔میں 2012ء کہہ رہا ہوں کہ یہ یہودی ایجنٹ ہے، وہاں سے سپورٹ حاصل ہے، آج پوری قوم پر آشکار ہوگیا ہے کہ ہندوستان اور اسرائیل کے فنڈز پر الیکشن لڑا اور پارٹی تشکیل دی، یہ وہ پیسا ہے کہ 2013ء کے الیکشن کے بعد مجھے بتایا گیا کہ اتنا بڑا پیسا ہے کہ ملک کے گلی کوچوں تک جائے گا، ایک ایک مسجداور ایک ایک مولوی تک جائے گا، مولانا فضل الرحمان تم اکیلے رہ جاؤ گے، تمارا مولوی بھی تمہارے ساتھ نہیں کھڑا ہوگا، پھر دنیا نے دیکھا جب صوبہ خیبرپختونخواہ میں مسجد امام کو ماہانہ 10ہزار دینے کا اعلان کیا تو ایک مولوی نہیں ملا جس نے پیسا قبول کیا، آج پھر اعلان کیا جارہا ہے کہ مساجد کے علماء کو پیسے دیں گے، میں پھرکہتا ہوں کہ یہودیوں اور ہندوؤں کا پیسا تمہارے منہ پر مارتے ہیں، وہ پیسا تمہیں سجتا ہے مولویوں کو نہیں سجتا، کوئی غیرت مند امام ، مولوی یہودیوں اور ہندوؤں کے پیسے پر لعنت بھیجتا ہے، ہم بھوکا سوجائیں گے تمہارے پیسے پر لعنت بھیجتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 6 سال سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ دوسرے فیصلوں میں فوری انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ایک طرف ملک معاشی بحران کا شکار ہے تو دوسری طرف دوست ممالک ملک کی خارجہ پالیسی سے خفا ہیں کہ چین اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران، بھارت کے کیمپ میں چلے گئے ہیں، اس خارجہ پالیسی کے ساتھ پاکستان کو کیسے آگے لے کر چلیں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے مودی کی ایما پر کشمیر کا سودا کیا ہے اس لیے
5 فروری کو ‘کشمیر فروشی’ کے خلاف مظاہرہ ہوگا اور اس بنیاد پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 5 فروری کو ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر مظاہرے کرنے ہیں اور راولپنڈی لیاقت باغ میں بہت بڑا مظاہرہ کریں گے۔خطاب کے آخر میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اب 5 فروری کو ملیں گے، جب تک ان کا جنازہ نہیں نکالیں گے اور مولوی جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑتا ہے، ہم ان کا جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑیں گے۔









