اسلام آباد (نیوز ڈیسک)جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شیخ رشید اسٹوڈنٹ تھے اور جلسوں میں ڈانس کرتے تھے، دینی مدارس کے طلباء کا جلسوں میں جانا شیخ رشید جتنا ہی حق ہے، ہم دینی طلباء کو آئین ، قانون، جمہوریت کا وفادار بنانا چاہتے، آپ کہتے وہاں بھی نہ آئیں ، تو پھر کدھر جائیں ، بندوق کی طرف جائیں؟ انہوں نے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کیخلاف الیکشن کمیشن اسلام آباد دفتر کے باہرپی ڈی ایم کی احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس کے طلباء بالغ بھی ہیں اور عاقل بھی ہیں، دینی مدارس کے
طلباء کا جلسوں میں جانا اسی طرح حق ہے، جس طرح شیخ رشید سٹوڈنٹ تھے اور جلسوں میں ڈانس کیا کرتے تھے، میرے ساتھ پی ڈی ایم کی جتنی قیادت ہے یہ سب کالج زمانے میں جلسے جلوسوں میں جایا کرتے تھے،پھر دینی مدارس سے کیوں ڈرتے ہو، ایک طرف کہتے ہوہم دینی مدارس کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں ، جب دینی مدرسوں کے طلباء پاکستان کی مثبت سیاست کی طرف جاتے ہیں، جلسوں میں جاکر سیاست کو سیکھنا چاہتے ہیں ، پاکستان کے آئین کو سمجھنا اور قانون کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتے ہیں ، پھر آپ کہتے وہاں بھی نہ آئیں ، تو پھر کدھر جائیں ، پھر بندوق کی طرف جائیں؟الحمداللہ مدارس کے طلباء، اساتذہ اور تنظیموں نے ہماری آواز پر لبیک کہا ہے، مدرسوں کے طلباء نے بندوق چھوڑ کر کتاب پکڑی ہے، ہم ان کو پاکستان کے آئین اور جمہوریت کا وفادار بنانا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہر ایک مولوی نے پیسہ ان کے منہ پر مارا اور اب پھر اعلان کیا گیا کہ مولوی کو پیسہ دیں گے’۔انہوں کہا کہ ‘میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم تمہارا پیسہ تمہارے منہ پر مارتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ 6 سال سے تاخیر کا شکار ہے جبکہ دوسرے فیصلوں میں فوری انصاف کا تقاضہ کرتے ہیں۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ایک طرف ملک معاشی بحران کا شکار ہے تو دوسری طرف دوست ممالک ملک کی خارجہ پالیسی سے خفا ہیں کہ چین اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات بھی ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران، بھارت کے کیمپ
میں چلے گئے ہیں، اس خارجہ پالیسی کے ساتھ پاکستان کو کیسے آگے لے کر چلیں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ حکومت نے مودی کی ایما پر کشمیر کا سودا کیا ہے اس لیے 5 فروری کو ‘کشمیر فروشی’ کے خلاف مظاہرہ ہوگا اور اس بنیاد پر ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں 5 فروری کو ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر پر مظاہرے کرنے ہیں اور راولپنڈی لیاقت باغ میں بہت بڑا مظاہرہ کریں گے۔خطاب کے آخر میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اب 5 فروری کو ملیں گے، جب تک ان کا جنازہ نہیں نکالیں گے اور مولوی جنازہ پڑھ کر ہی چھوڑتا ہے، ہم ان کا جنازہ
پڑھ کر ہی چھوڑیں گے۔انہوں نے وزیر داخلہ شیخ رشید کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘دینی مدارس کے طلبہ عاقل بھی ہیں اور بالغ بھی اس لیے ان کا بھی قانونی حق ہے جس طرح شیخ رشید طالب علمی کے دور میں جلسوں میں ڈانس کیا کرتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘دینی مدارس سے کیوں ڈرتے ہیں، ایک طرف کہتے ہو کہ دینی مدارس قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں، جب وہ پاکستان کی مثبت سیاست میں جانا چاہتے ہیں، تو آپ کہتے ہیں کہ وہاں بھی نہ آئیں’۔









