اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینئرصحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ پرسوں رات کو مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز کے مابین رابطہ ہوا جس میں مریم نواز نے کہا کہ پیپلز پارٹی این آر او لے گئی ہے اور ہمارے ساتھ دھوکہ کر گئی ہے۔عارف حمید بھٹی کے مطابق مریم نواز اس وقت بلاول بھٹو سے سخت ناراض ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ بلاول نے ہمیں چھوڑ دیا، جس پر مولانا فضل الرحمان نے شکوہ کیا کہ ن لیگ نے بھی ہمیں چھوڑ دیا تھا جس پر دونوں فریقین نے کہا کہ آئندہ پیپلز پارٹی پر انحصار نہیں کرنا۔عارف حمید بھٹی نے مزید کہاکہ آج کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے وفد کو یہ باور کروایا
گیا کہ بلاول بھٹو اس تحریک کو وقت دیں کیونکہ وزیراعظم کو دی گئی استعفے کی ڈیڈی لائن بھی قریب ہے۔عارف حمید بھٹی نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے مدرسوں کے طالب علم ڈنڈوں کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے۔ علاوہ ازیں عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی بڑے پیمانے پر فارن فنڈنگ ثابت ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر اطلاع ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو جو پیسے آتے رہے ہیں،ان کے ثبوت کچھ ایسے لوگوں کو ملے ہیں جو پاکستان نیشنل نہیں ہیں۔تجزیہ کار نے مزید کہا کہ اس خبر کے باوجود الیکشن کمیشن نے فیصلہ کرنا ہے۔۔دوسری جانب اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر مولانا فضل الرحمن نے الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج میں عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کا مرکزی ملزم عمران خان ہے ،مدر آف این آر او لے کر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا ، کبھی تو ایک منتخب وزیراعظم کیخلاف 6 مہینے میں فیصلہ دیدیا جاتا ہے، آج سلیکٹڈ وزیراعظم کیخلاف کیس زیرالتوا پڑا ہوا ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے، ہم جمہوری لوگ ہیں ،دھاوا نہیں جمہوری احتجاج کررہے ہیں یہ آئین اور قانون کا تقاضا ہے،الیکشن کمیشن کو غیر جانبدار ہوکر فیصلہ کرنا ہوگا، جس جرم کا اعتراف ہوچکا اس کا فیصلہ سنایا جائے، مزید تاخیر سے شکوک وشبہات پیدا ہونگے۔









