سعودی عرب میں پیدا ہونے والا بچہ ایک سال بعد والدین کو مل گیا

کوئٹہ(نیوز ڈیسک)سعودی عرب میں پیدا ہونے والا بچہ ایک سال بعد والدین کو مل گیا، پچھلے سال عمرے کی ادائیگی کے دوران پاکستانی جوڑے کے ہاں بچہ پیدا ہوا، پیدائش قبل ازوقت ہونے سے بچہ ہسپتال میں زیرعلاج تھا لیکن کورونا کی وجہ سے والدین واپس آگئے، والدین کی غیرموجودگی میں سعودی حکومت نے بچے کی دیکھ بھال کی۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ کے رہائشی والدین غلام حیدر اور ان کی اہلیہ بی بی حاجرہ پچھلے سال جنوری میں عمرے کی ادائیگی کیلئے سعودی عرب گئے، ابھی مکہ مکرمہ میں ہی تھےکہ 9 جنوری 2020ء کوان کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔ بچے کی پیدائش قبل ازوقت

ہوگئی تھی جس کی وجہ سے بچے کی صحت خراب تھی اور اس کو ہسپتال میں داخل لیا گیا۔ بچے کو46 دن تک وینٹی لیٹر پر مصنوعی تنفس پر رکھا گیا تھا۔اسی دوران کورونا وباء پھیلی جس کی وجہ سے والدین کو بیمار بچے کو چھوڑ کر واپس پاکستان آنا پڑا، لیکن اس عرصے میں مکہ مکرمہ کے زچہ و بچہ ہسپتال کے اہلکار نومولود کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ تاہم بچہ ایک سال کا ہوگیا اور گزشتہ روز جمعہ کو بچے کو پاکستان میں والدین کے حوالے کردیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستانی قونصل خانہ جدہ کے توسط سے بچے کو طیارے کے ذریعے کراچی براستہ کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچایا گیا، جہاں پر اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کوئٹہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رضا وارثی کی موجودگی میں کوائف پر والدین سے دستخط لیے گئے اور پھر ایک سالہ عبداللہ کو والدین کے سپرد کردیا گیا۔بچے کے ساتھ پاکستانی قونصل خانہ جدہ کے اہلکار محمد زاہد نورانی کو بھی بھیجا گیا۔ عبداللہ کو ایئرپورٹ پر پاکر والدین، عزیزواقارب سمیت اہل محلہ سب خوشی سے سرشار ہوگئے۔ والدین نے سعودی حکومت اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم ان کے لیے دعاگو ہیں انہوں نے ہمارے بچے کی زندگی بچائی، علاج معالجے پر ہمارا ایک روپیہ بھی خرچ نہیں ہوا، سارا علاج مفت کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں