پاکستان کو ملائشین عدالت کا کوئی نوٹس موصول ہی نہیں ہوا

راولپنڈی(نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے ملائیشیا میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا طیارہ روکے جانے سے متعلق کہا ہے کہ ویتنام سے لیز پر حاصل کیے گئے مسافر طیاروں کے واجبات کا معاملہ برطانوی عدالت میں زیر سماعت ہے جبکہ ملائیشیا کی عدالت کی جانب سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا۔راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم کے مشیر برائے ایوی ایشن شجاعت عظیم نے انتہائی مہنگے معاہدے پر ویتنام سے 2 طیارے حاصل کیے تاہم کووڈ 19 کی وجہ سے ان کے واجبات کی ادائیگی ممکن نہیں ہوسکی۔

غلام سرور نے بتایا کہ لیز جولائی میں ختم ہورہی ہے لیکن ہم نے لندن کورٹ آف آربیٹریشن میں کیس دائر کیا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے بقایاجات ادا نہیں کرسکے اور جیسے ہی کورونا کے بعد صنعت بحال ہوگی تمام بقایا جات ادا کردیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے کمپنی کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے مہنگے ترین معاہدے کیے۔علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ ویتنام کی جانب سے ملائیشیا کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا جبکہ عدالت کی جانب سے بہرحال کوئی نوٹس موصول نہیں اور بغیر اطلاع دیے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا۔واضح رہے کہ گزشتہ یہ خبر سامنے آئی کہ ملائیشیا کی ایک مقامی عدالت کے حکم پر کوالالمپور ایئرپورٹ پر پی آئی اے کا مسافر طیارہ بوئنگ 777 روک لیا گیا۔اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور نے واضح کیا کہ اٹارنی جنرل سے ہدایات لے لی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 22 تاریخ کو برطانوی اور 24 تاریخ کو ملائیشیا کی عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف دیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اصل فیصلہ برطانوی عدالت سے آئے گا اور ہمیں منظور ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں