ترجمان وزیراعظم ندیم افضل چن کے مستعفی ہونے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ندیم افضل چن کا استعفیٰ وزیراعظم عمران خان کو مل گیا تاہم وزیراعظم نے استعفیٰ پڑھ کر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔وفاقی وزراء نے وزیراعظم کو مشورہ دیا ہے کہ ندیم افضل چن کا استعفی منظور نہ کیا جائے۔دوسری جانب ندیم افضل چن نے کسی صورت بھی استعفیٰ واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق ندیم افضل چن نے گاڑی اور دفتر سمیت دیگر سرکاری مراعات واپس کردی ہیں۔ذرائع کا بتانا ہے کہ ندیم افضل چن کا قریبی ساتھیوں سے بات چیت میں کہنا تھا کہ پارٹی میں رہوں گا لیکن عہدہ نہیں لوں گا۔ذرائع کے مطابق منگل12جنوری کو کابینہ اجلاس کی صدارت کے

دوران وزیر اعظم جب حکومتی کارکردگی کا دفاع نہ کرنے والے تنقیدی وزراءپرغصے کا اظہار کر رہے تھے تو اجلاس میں موجود وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن زیر لب مسکراتے رہے اور درود شریف کا ورد کرتے رہے ، اجلاس کے بعد ندیم افضل چن سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی حاجی نواز کھوکھر کے انتقال پر اظہار تعزیت کے لئے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کے گھر گئے اوران سے تعزیت کی تاہم وہان بھی ندیم افضل چن نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے حوالے سے کچھ نہ کہا ، ندیم افضل چن نے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر سے صرف اتنا کہا کہ وزیر اعظم غصے میں ہیں‘ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے ترجمان کی حیثیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرتے وقت سابق وفاقی وزیر اور اپنے قریبی رشتہ دار نذر محمد گوندل سے بھی کوئی مشورہ نہیں کیا، انہوں نے وفاقی کابینہ اجلاس کے اگلے روز کافی سوچ بچار کے بعد وزیر اعظم کے ترجمان کی حیثیت سے مستعفی ہونے فیصلہ کیا اس کے بعد ندیم افضل چن نے اپنا استعفیٰ لکھ کر وزیر اعظم ہاؤس گئے اور اپنا استعفی وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری کے حوالے کر کے واپس آگئے ، اس کے بعد ندیم افضل چن نے اپنے تمام موبائل فون آف کر دئیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں