اسلام آباد (نیوز ڈیسک)فنکشنل لیگ کے رہنما محمد علی درانی نے اپنی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حوصلہ ملا ہے۔ انہوں نے یو ٹیوب ویڈیو میں کچھ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک سیاسی تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مفاہمت ہی اس وقت کے حالات میں سب سے بہتر حل ہے۔ میرے نزدیک حل یہ ہے کہ سب سیاسی قوتوں کو گھیر گھار کر پارلیمنٹ میں لے جائیں۔پارلیمان جیسا بھی ہو اسکی ہی تعظیم ہونی چاہئیے۔ محمد علی درانی نے اپوزیشن کے رویے کو غیر جمہوری بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو جیل میں رکھنا پھر بد تہذیبی یہ سب کچھ غلط ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک سے تو ان کا دلی لگاؤ ہے۔ پی ڈی ایم کی سیاسی قیادت کو انہوں نے مشورہ بھی دیا اور کہا کہ پی ڈی ایم کی قیادت کو چاہئیے کہ وہ اپنا رخ صرف اور صرف حکومت کی جانب رکھیں۔کیوں کہ جو بیٹھا ہوتا ہے وہی طوطا ہوتا ہے جس میں سب کی جان ہوتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ میرے دوروں اور ملاقاتوں کے نتائج سب پر واضح ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہاپوزیشن کو چاہئیے کہ اپنی تحریک کا ہیڈ کوارٹر پارلیمنٹ کو بنائے پارلیمنٹ کسی ایک کی نہیں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی ہے، معاملات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ میری کوششوں کی وجہ سے ہی جہاں پہلے اداروں کے سربراہان کے نام لیے جاتے تھے۔اب بات شہروں کے ناموں پر آگئی اور اب چائے اور پیزے کی بات ہو رہی ہے ۔ علی درانی نے مزید کہا کہ یہاں سیاست اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے ہی ہے۔ ہماری طرف ہے تو جمہوریت نہیں ہے تو فسطائیت۔ پہلے کہا گیا کہ عدلیہ الیکشن کروائے وہ ہوگئے تو کہا گیا کہ یہ تو آر اوز کا الیکشن تھا۔ پھر کہا گیا کہ فوج آجائے ، فوج نے کروائے تو کہا گیا کہ سیلیکٹڈ ہوگیا۔ اب بات یہ ہے کہ اس پر سب کا اتفاق ہو کہ معاملات کو چلایا جائے۔ تمام الیکشن ایک دن پر کروائے جائیں۔ اور پارلیمان کو عزت دی جائے۔









