راولپنڈی(نیوز ڈیسک) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے آرمی چیف اور اپوزیشن کے بیک ڈور رابطوں کے بیانات کر مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، جس طرح جو بھی بات ہورہی ہے، اگر بیک ڈور رابطے کی بات کی جارہی ہے تو بالکل فوج کے ساتھ کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار یہ باتیں نیوز کانفرنس کے دوران میڈیا کو بریفنگ اور بعد ازاں صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج کا کسی سے کوئی بیک ڈور رابطہ نہیں اور
نہ ہی فوج پر لگائے گئے الزامات میں کوئی وزن ہے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بیانات پر تشویش اپنی جگہ ہے، جس نوعیت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ایسا کرنا اچھی بات نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر فوج حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ ان الزامات کا حکومت نے بہت اچھے طریقے سے جواب دیا۔ فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرتی اور نہ ہی اسے گھسیٹنا چاہیے۔ترجمان پاک فوج نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پر باڑ فوج نے حکومت کے احکامات پر عوام کی سیکیورٹی کے لیے لگائی، اس باڑ کو لگانے میں پاک فوج کے جوانوں نے اپنا خون بہایا اور شہادتیں دیں، کسی کی مجال نہیں کہ وہ باڑ کو اکھاڑ سکے۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاک فوج اندرونی اور بیرونی خطرات کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ دہشتگردی کیخلاف کامیاب آپریشن کیے گئے۔ آپریشن رد الفساد میں 3 لاکھ 71 ہزار سے زائد آپریشن کیے۔ دہشتگردی کیخلاف آپریشن سے سیکیورٹی صورتحال مجموعی طور پر بہتر ہوئی جبکہ خود کش حملوں میں 97 فیصد واضح کمی آئی۔ آج تمام قبائلی علاقے خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ کراچی میں دہشتگردی میں 95 فیصد کمی آئی۔ کراچی میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں 98 فیصد کمی ہو چکی ہے۔ کراچی کا کرائم انڈیکس چھٹے نمبر پر تھا، اب 103 پر ہے۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقے میں دہشتگردی 55 فیصد کم ہو گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بھارتی اشتعال انگیزیوں کا سامنا ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستان پرامن اور ترقی کی راہ پر
گامزن ہو۔ مشرقی سرحد پر بھارتی اشتعال انگیزی میں اضافہ ہوا۔ بھارتی افواج دانستہ طور پر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ پاک فوج نے بھارتی خلاف ورزیوں کا ہمیشہ بھرپور جواب دیا۔ بھارت نے 2019 میں سب سے زیادہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیاں کیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیے۔ بھارت کیخلاف ای یو ڈس انفارمیشن لیب کے ذریعے شواہد سامنے آ چکے ہیں۔ 70 سے زائد ممالک کے ساتھ خفیہ معلومات شیئر کی گئیں۔ جعلی نیٹ ورک میں جعلی این جی اوز بھی شامل تھیں۔ فیک این جی اوز کے ذریعے پاکستان کیخلاف سیمینار کیے گئے۔
جعلی نیٹ ورک شری واستو گروپ چلا رہا تھا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا بھارت نے اقلیتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا، بھارت نے کشمیر کے محاذ پر اپنی جارحیت کو چھپایا، دشمن قوتیں ہمیں تقسیم کرنے کی کوشش میں ہیں، پاکستانی میڈیا نے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ریاست کا ثبوت دیا، بلوچستان میں ملک دشمن قوتیں امن و امان خراب کرنے کے درپے ہیں، بلوچستان میں 199 ترقیاتی منصوبوں پر جبکہ خیبرپختونخوا میں 883 ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ اگر مولانا پنڈی آئے تو چائے
ہانی پلائیں گے ، پی ڈی ایم کی پنڈی آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، اگر کوئی آنا چاہے تو چائے پلائیں گے، اس سے زیادہ کیا کہہ سکتا ہوں۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ انتشار پھیلانے کی کوشش نئی نہیں، پچھلی دودہائیوں سے اضافہ کیا گیا،پاکستانی قوم انتشار کی کوشش جہاں بھی ہورہی ہے اپنے مقام تک نہیں پہنچ سکے گی۔کسی کو الیکشن پر شک ہے تو متعلقہ اداروں سے رجوع کریں، جو باتیں کی جارہی ہیں ، اس کا جواب حکومت پاکستان نے اچھے طریقے سے دیا ہے،حکومت وقت نے کہا کہ فوج نے بڑی دیانتداری سے الیکشن کروائے، فوج حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے، فوج کو
سیاسی معاملات میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں، کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے، فوج کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کی جائے۔ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال پر”پی ڈی ایم کی جانب سے فوج کو سلیکٹرز کہا جارہا ہے، دھمکیاں دی جارہی ہیں، سیاست میں گھسیٹا جارہا ہے ، یہ سنا جارہا ہے کہ بیک ڈور مفاہمتی رابطے ہورہے ہیں“؟ کے جواب میں کہا کہ سیاسی تبصرے سے گریز کرتا ہوں فوج ان بیانات پر تشویش ہے، حکومت وقت نے الیکشن کروانے کا کہا کہ فوج نے بڑی دیانتداری سے الیکشن کروائے۔پھر بھی کسی کو الیکشن پر شک ہے تو متعلقہ
اداروں سے رجوع کریں، فوج حکومت کا ایک ذیلی ادارہ ہے،اس ضمن میں جو بھی بات کی گئی،جو باتیں کی جارہی ہیں ، اس کا جواب حکومت پاکستان نے اچھے طریقے سے دیا ہے، فوج کو سیاسی معاملات میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں، کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے، فوج کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کی جائے۔ انتشار پھیلانے کی کوشش نئی نہیں، پچھلی دودہائیوں سے اضافہ کیا گیا،پاکستانی قوم انتشار کی کوشش جہاں بھی ہورہی ہے اپنے مقام تک نہیں پہنچ سکے گی۔انہوں نے کہا کہ فوج پر تنقید اور الزامات کے سوا ل کے جواب میں کہا کہ پاک فوج اپنا کام کررہی ہے،
قربانیاں بھی دے رہی ہے، فوج ان الزامات پر ردعمل کیوں نہیں دیتی تو اگر ان الزامات میں کوئی حقیقت یا وزن ہوتو ہم جواب دیں، ہم ان چیزوں میں نہیں پڑنا چاہتے، کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، پوری فوج اور شہداء خاندانوں کا مورال بلند ہے۔ایک سوال ”وزیراعظم عمرا ن خان اپنے انٹرویوز میں کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن کی جانب سے فوج کو کہا جارہا ہے کہ وہ منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیں، کیا اپوزیشن کے کسی رہنماء کی جانب سے آرمی چیف سے کوئی ایسا مطالبہ کیا گیا؟ “اس کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا، جس طرح جو بھی بات ہورہی ہے، اگر بیک ڈور رابطے کی بات کی جارہی ہے تو بالکل فوج کے ساتھ کوئی بیک ڈور رابطے نہیں ہورہے، ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔









