راولپنڈی (نیوز ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ رواں ہفتے کوئٹہ جائیں گے۔انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہا کہ رواں سال کورونا،معیشت اور سیکیورٹی مسائل کا سامنا رہا۔صورتحال نے معاشی و غذائی صورتحال کو خطرے میں ڈال دیا۔ ریاست اور قوم نے متحدہ ہو کر مشکلات کا مقابلہ کیا۔میجرجنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ 2020میں سیکیورٹی چیلنجز کےعلاوہ لوکسٹ، کورونا جیسی وبا نے مشکلات پیدا کیں، ایک طرف بھارت کی ایل اوسی کی خلاف ورزی جاری تھی ، دوسری طرف مشرقی سرحد پر کالعدم تنظیموں کی جانب سے کارروائیوں کا سامنا تھا،
چیلنجز کے باوجود ریاست،قومی اداروں، افواج پاکستان اور عوام نے متحد ہوکر حالات کا مقابلہ کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیکیورٹی کی مجموعی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے ، پاک افغان ،ایران سرحدمحفوظ بنانےکیلئے مربوط اقدام کیے، اندرونی یا بیرون خطرات ہم نےہمیشہ حقائق پر نشاندہی کی اورکامیابی سے مقابلہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں کوئی بھی آرگنائزڈ دہشت گرد انفرااسٹرکچر موجود نہیں، آپریشن ردالفساد کےتحت پچھلے 3سال میں 3لاکھ 71ہزار آپریشن کئے گئے اور اس دوران غیرقانونی اسلحہ بارودکابڑی حدتک خاتمہ کیاگیا۔پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ بھارت جعلی این جی اوزکےذریعےپراپیگنڈاپھیلارہاتھا،جھوٹےچینلزاور ویب سائٹس کےذریعےخبریں پھیلائی گئیں،سوشل میڈیاپرجھوٹی خبروں کوٹی وی چینلزپرچلایاگیا ،جھوٹ پرمبنی مہم نےپاکستانی ساکھ کوبری طرح نقصان پہنچایا،ای یوڈس انفولیب نےبھارتی سازش کوبےنقاب کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا اوربلوچستان میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں،بلوچستان میں دہشتگردوں نےحملوں کی منصوبہ بندی کی،پاکستانی میڈیانےبہت ذمہ داری کا مظاہرہ کیا،کورونااور بھارتی پراپیگنڈےکخلا ف میڈیانےاہم کردارادا کیا۔میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایف سی کی استعدادکاربڑھائی گئی،بلوچستان میں اب 2ایف سی ہیڈکوارٹرزکام کررہےہیں،بلوچستان میں مسلسل انٹیلی جنس بیس آپریشن جاری ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ امریکا سمیت پوری دنیا سےپاکستان کےبہترین روابط ہیں،آرمی چیف رواں ہفتے کوئٹہ جائیں گے،فوج پر جھوٹے الزامات کا جواب دینےکافائدہ نہیں،
فوج اپنا کام کررہی ہے،ہمارے حوصلے بلند ہیں،بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینےکیلئے ہمہ وقت تیارہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پرباڑسیکیورٹی کیلئے لگائی گئی،باڑ کی تنصیب میں ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں،کسی میں مجال نہیں کہ پاک افغان سرحدسےباڑاکھاڑسکے،راولپنڈی آنےکی کوئی وجہ نہیں،اگرکوئی آیا تو چائےپلائیں گے۔









