اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مریم نواز نے کہا ہے کہ وزیراعظم کی اناانہیں متاثرین کے پاس جانے سے روک رہی ہے، اور وہ مظلوموں کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ہزارہ متاثرین سے ملاقات میں جو مناظرکل دیکھے دل دہل گیاہے، متاثرین میتوں کو تابوت میں سامنے رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ہزارہ برادری پر قیامت گزرہی ہے، کچھ متاثرہ خواتین نےکہا کہ اب ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں جو جنازوں کو کاندھا دے، بچے اپنے والد کے تابوت سامنے رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے، سانحہ مچھ پر سیاست کرتی تو عمران
خان کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملتی، عمران خان اپنی نااہلی کو سیاست کہہ کر چھپانے کی کوشش نہ کریں، انہیں سیاست کی آڑ میں چھپنے نہیں دینگے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ پوری قوم سوگ کی حالت میں ہےہزارہ برادری کےدردکومحسوس کیا ہے، گزشتہ 6 روز سے قوم کی مائیں بہنیں حکمران کا انتظار کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ہمارا کوئی مطالبہ نہیں ہے، حکمران آکر صرف ہمارے زخموں پر مرہم رکھیں، ان کے سروں پرشفقت کا ہاتھ رکھا جائے، لیکن وزیراعظم نے کہا میں بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا، وزیراعظم نے بے حسی اور انسانیت سے عاری باتیں کیں۔مریم نواز نے کہا کہ ہزارہ برادری کو بلیک میلر کہہ کر جس غرور، تکبر اور سفاکی پر مبنی بیان دیا گیا ہے اس کے بعد ہم صرف آپ کے لیے دعا ہی کرسکتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ ‘یہ فرعونیت ہے’۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ صورتحال آپ کے گھر میں پیش آتی تو کیا آپ انہیں بھی بلیک میلرز کہتے۔مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘مردہ دفن کیے جانے کے بعد آپ کا دورہ کوئی معنی نہیں رکھتا، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ اگر تکبر اور ہٹ دھرمی کا کوئی چہرہ ہوتا تو وہ عمران خان جیسا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی کلیئرنس ہمیں بھی نہیں ملی تھی لیکن ہم وہاں گئے اور جو کرسکے وہ کیا لیکن میں اور قوم سوال کرتے ہیں کہ 22 کروڑ افراد کی زندگی سے زیادہ آپ کی زندگی اہم اور قیمتی ہے’۔مریم نواز نے کہا کہ اس کا جواب آپ کو دنیا اور آخرت میں دینا پڑے گا اور آج بتایا گیا کہ سیکیورٹی خدشات نہیں مگر عمران خان کی انا اور ضد تھی۔









