کوئٹہ(نیوز ڈیسک) کوئٹہ دھرنا اور مظاہرین کے مطالبات میں بیرونی مداخلت کا انکشاف سامنے آیا ، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کےسربراہ نے کہا ہے کہ حکومت سے کئے جانیوالے مطالبات شہدا کے لواحقین کی خواہش نہیں۔تفصیلات کے مطابق ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کےسربراہ عبدالخالق ہزارہ نے انکشاف کیا ہے کہ کوئٹہ دھرنے میں بیرونی مداخلت ہورہی ہے ، حکومت سے کئے جانیوالے مطالبات شہدا کے لواحقین کی خواہش نہیں، لواحقین اور دھرنا مظاہرین کے مطالبات الگ الگ ہیں۔عبدالخالق ہزارہ کا کہنا تھا کہ مچھ واقعےکو الگ رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے، دھرنا انتظامیہ کے کچھ مطالبات آئین سے ٹکراؤ کیلئےہیں ،
لواحقین کے مطالبات درست اور دھرنا انتظامیہ کےمطالبات غلط ہیں۔ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کےسربراہ نے بتایا کہ سانحے کے اگلے روز ہی لواحقین نے تدفین کا فیصلہ کرلیاتھا ، کچھ لوگوں نےیہ مشورہ دیا کہ ہمیں دھرنا دینا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ کچھ عناصر مچھ واقعے کے شہدا کے لواحقین کو استعمال کررہےہیں، دھرنے کے ذریعےمذہبی شدت پسندی کو فروغ دیا جارہا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مچھ میں کام کرنیوالے 11مزدوروں کو بےدردی سے قتل کیاگیا، بھارت پاکستان میں پوری طرح انتشار پھیلانے کی کوشش کررہاہے، مارچ 2019میں کابینہ کوبتایا تھا کہ شعیہ علما کو قتل کرنے کی سازش کی جارہی ہے، یہ سازشیں بھارت پاکستان کے خلاف کررہاہے۔عمران خان نے کہا کہ مچھ واقعے کے بعد وزیر داخلہ کوکوئٹہ بھیجا ، وزیرداخلہ کے بعد پھر 2وفاقی وزرا کو لواحقین سےتعزیت کیلئے بھیجا، مجھے پتہ ہے ان کیساتھ ظلم ہوا ہے، کل تک ان کے تمام مطالبات ہم مان چکے ہیں، ان کاایک مطالبہ ہے کہ وزیراعظم آئیں تو تدفین کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی ملک میں نہیں ہوتا کہ وزیراعظم کو بلیک میل کریں، میں نے کہا ہے یہ جیسے ہی تدفین کریں گے تو میں کوئٹہ جاؤں گا، آج تدفین کریں تو آج ہی کوئٹہ جاؤں گا۔وزیراعظم نے مزید کہا سارے مطالبات مان لئے تو دفنانے پر شرط کیوں ؟ پہلے تدفین کریں میں گارنٹی دیتاہوں کوئٹہ آؤں گا ، تدفین کیلئے وزیراعظم کی آمد کی شرط رکھنا مناسب نہیں، سانحہ مچھ کےمتاثرین کے تمام مطالبات تسلیم کرلئے گئے۔









