لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے پارٹی کارکنان کو ہزارہ برادری کے احتجاجی دھرنوں میں شرکت کی ہدایت کردی۔ ترجمان ن لیگ نے بتایا کہ نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی کو مولانا فضل الرحمن اور دیگر قائدین سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ ہزارہ برادری کے شہداء کا معاملہ پی ڈی ایم میں لے جایا جاسکے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ قائد مسلم لیگ محمد نوازشریف نے ہزارہ برادری کی حمایت میں احتجاج کی کال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی قائد نے ملک بھر میں جماعت کی مقامی قیادت اور کارکنان
کو احتجاج کی کال میں بھرپور شرکت کی ہدایت کی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت اور کارکنان اپنے اپنے شہروں میں ہزارہ برادری کیلئے احتجاج میں شریک ہوں اور حمایت کریں۔محمد نوازشریف، شہبازشریف اور پوری جماعت اس مشکل گھڑی اور ہزارہ برادری کے غم میں شریک ہیں۔ ترجمان ن لیگ نے کہا کہ ہزارہ برادری کے شہداء کے معاملے کو پی ڈی ایم میں بھی لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت پارٹی قائد محمد نوازشریف نے شاہد خاقان عباسی کو مولانا فضل الرحمن اور دیگر قائدین سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس سے قبل مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے قائد نوازشریف نے ہزارہ برادری کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ملک بھر میں جماعت کی قیادت اور کارکنان کو احتجاج میں شرکت کی ہدایت کی ہے۔نواز شریف نے کہا ہے کہ ہزارہ برادری کے شہدا کے معاملے کو پی ڈی ایم کے فورم پر اٹھائیں گے۔ انہوں نے شاہد خاقان عباسی کو مولانا فضل الرحمن اور دیگر قائدین سے فوری رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری جانب ذبح کردہ مزدوروں کے لواحقین لاشوں کے ہمراہ چھٹے روز بھی شدید سردی میں کوئٹہ کے مغربی بائی پاس پر دھرنا دے کر بیٹھے ہیں جبکہ وزیراعظم نے شرط عائد کی ہے کہ وہ لاشوں کو دفنا دیں، پھر وہ کوئٹہ آئیں گے۔مسلم لیگ ن کی نائب رہنما مریم نواز نے وزیراعظم کے بیان کو ’انسانیت سے عاری‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان لاشوں کے ساتھ ضد لگا کر بیٹھے ہیں۔ ہزارہ برادری آپ
سے دلاسہ مانگ رہی ہے اور آپ انہیں بلیک میلرز قرار دے رہے ہیں۔کوئٹہ سے واپسی پر کراچی میں ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ وہ اس بارے میں گفتگو نہیں کرنا چاہتی تھی مگر عمران خان کا بیان سن کر میرا دل دہل گیا ہے۔کوئٹہ کے مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کراچی میں درجنوں مقامات پر بھی تین دن سے دھرنے جاری ہیں جس کے باعث کراچی میں بیشتر مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک معطل ہے اور نظام زندگی متاثر ہوا ہے









