اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سانحہ مچھ کے خلاف احتجاج چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے اور مظاہرین نے وزیراعظم عمران خان کی آمد تک احتجاج جاری رکھنے اور میتوں کو نہ دفنانے کا اعلان کر رکھا ہے اور وزیراعظم ہیں کہ کوئٹہ جانے میں مسلسل تاخیر کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے تجزیہ کار سید انور محمود کا کہنا ہے کہ وقت ہی سب کچھ ہے ، چاہے وہ میدان جنگ ہو ، سیاست میں یا حقیقت میں کسی بھی فیصلہ سازی کی صورتحال میں صرف وقت ہی اہم ہوتا ہے ،اگر وقت کو ضرورت کے مطابق استعمال نہ کیا جائے تو یہ بہترین فیصلہ کو بھی غلط کر سکتا ہے اور بدترین ،ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن سکتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت صحیح وقت پر دورست فیصلہ نہیں لے رہی ہے ۔تاخیر سے لئے گئے ہر فیصلے کے نقصان ہوتے جو کم یا زیادہ ہو سکتے ہیں۔اسی طرح پی ٹی آئی کا تازہ ترین غیر مقبول فیصلہ وزیر اعظم کی طرف سے مچھ قتل عام کے اہل خانہ تک ذاتی طور پر پہنچنے میں تاخیر ہے ،سیاست میں ، میدان جنگ کی طرح کمانڈر کو بھی مثال بن کر رہنمائی کرنا ہوتی ہے ، اسے ذاتی خطرات اٹھانا پڑتے ہیں ، اس لئے ہی دوسرے متاثر ہوتے ہیں ۔تجزیہ کار نے کہا کہ ہزارہ برادری پُرامن ہے ،بہادر ہونے کے ساتھ وہ بہت محنتی بھی ہیں ، یہ کہ وہ بار بار ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنے ہیں اس پر افسوسناک تبصرہ ہے کہ ہماری ایک بار نہایت ہی روادار اور ہم آہنگی والی سیاست بن گئی ہے ،ان کے معاملے میں یہ فرقہ واریت سے زیادہ واضح ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کا بڑی گیم کا حصہ ہے ،ہزارہ چونکہ بلوچستان میں رہتے ہیں اور اس لئے یہ بیرونی طاقتوں اور ان کے مقامی پراکسیوں اور تنخواہ دار ایجنٹوں کا زیادہ ہدف بنتے ہیں ۔سید انور محمود نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پچھلے چند برسوں میں قدرے امن رہا ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اچانک سے قبائلی علاقو ں اور بلوچستان میں اچانک دہشتگرد حملے پھر سے بڑھے ہیں، ہم سب کو پتہ ہے کہ یہ کیوں ہو رہے ہیں اور کون اس کے پیچھے ہے ، وزیر اعظم کو کوئٹہ میں غمزدہ خاندانوں تک دیر سے پہنچنے کا بہت نقصان ہو گا ۔ایک رہنما کے لئے ان کے بارے میں خیالات اتنے ہی اہم ہیں جتنا ان کے بارے میں حقائق۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے سیاسی مخالفین نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا ،کوئی بھی اپوزیشن ہوتی تو ایسا ہی کرتی ،یہاں تک کہ بلاول ،وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ کوئٹہ چلے گئے حالانکہ ان کے اپنے کراچی میں قتل اور ڈکیتیاں روزانہ کا معاملہ بن گیا ، کراچی کے 18مقامات پر دھرنے دئیے جارہے ہیں لیکن دونوں رہنماؤں نے ان سے مذاکرات کی ذرا برابر پروا نہیں کی حالانکہ شہر کی صورتحال بھی المناک ہے ۔پی پی کے اپنے دور حکومت میں میں بھی ہزارہ برادری کو ایسے ہی دہشتگرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ عوام کی یادداشت کمزور ہے ، دوسرا وہ جانتے ہیں کہ شعور حقیقت سے زیا دہ طاقتور ہے جبکہ مریم نواز نے بھی ایسا ہی کیا یہی تو سیاست ہے ،کاش کوئی چار دن پہلے وزیر اعظم کو کوئٹہ کا فوری دورہ کرنے پر راضی کرلیتا، اس موقع پر ان کا اکیلا جانا اچھا ہوسکتا ہے ۔









