عمران خان آئیں گے تو میں خود اپنے ابو کی میت کو دفن کروں گی،ریحانہ

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) سانحہ مچھ کے متاثرین شہداء کے جسد خاکی کے ساتھ پچھلے 5 روز سے کوئٹہ میں احتجاج کر رہے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم کی آمد تک میتوں کی تدفین نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کریم بخش ان دس کان کنوں میں شامل تھے جنہیں مچھ میں قتل کر دیا گیا۔ان کی بیٹی ریحانہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ والد ہمارے گھر کے واحد کفیل تھے۔وہ چار بہنیں ہیں جن میں بھائی سب سے چھوٹا ہے،ان کا کہنا تھا کہ وہ سب سے بڑی ہیں جب کہ بھائی کی عمر صرف چار سال ہے۔اس کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ موت کیا ہوتی ہے،وہ اتنا چھوٹا ہے کہ بابا کی میت بھی نہیں اٹھا سکتا۔

ریحانہ کا مزید کہنا ہے کہ چونکہ ان کے والد محنت مزدور کے لیے زیادہ تر باہر ہوتے تھے اس لیے جب چھوٹا بھائی ہم لوگوں سے کسی بات پر ناراض ہوتا تھا تو ہم کہتے تھے کہ جب بابا آئیں گے تو ہم ان کو بتائیں گے۔ہم چھوٹے بھائی کو کیسے بتائیں کہ بابا اب دنیا میں نہیں رہے وہ اب کبھی گھر نہیں آئیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کانوں میں مزدوری کرنا آسان کام نہیں۔والد کئی ہفتے گھر نہیں آتے تھے۔وہ جب ڈیڑھ دو ماہ بعد گھر آتے تھے تو ہماری خوشی کی کوئی انتہا نہیں ہوتی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہزارہ قبیلے کے جو حالات ہیں ان کے پیش نطر ان کے والد ایک محنت کش ہونے کے باجود ان کو ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے۔ریحانہ نے مزید کہا کہ انہیں پیسے نہیں چاہئیے بلکہ وہ چاہتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان آئیں اور انصاف کر دیں،ان کا کہنا تھا کہ جھوٹے وعدوں کی بجائے اگر انصاف دلایا جائے تو ہم بہنیں اپنے والد کی تدفین خود کریں گی۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ہزارہ برادری سے اظہار تعزیت کرنے کیلئے کوئٹہ جانےکا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق دورے کا اعلان سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے قبل از وقت نہیں کیا جائےگا۔ دورے کا دن اور وقت خفیہ رکھا جائے گا۔ وزیراعظم کے دورہ کے شیڈول کے حوالے سے مشاورت جاری۔خیال رہے کہ متاثرین نے وزیراعظم کے آنے تک دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ شہدا کے لواحقین کے ساتھ مذاکرات کے پانچ دور ہوچکے ہیں جس میں حکومت کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔متاثرین کا کہنا ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے آنے تک اپنا دھرنا ختم نہیں کریں گے۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے بھی درخواست کی تھی کہ میتوں کو دفنا دیں میں ہزارہ برادری سے ملنے ضرور آؤں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں