میرے بچے کو گاڑی سے باہر نکال کر گولیاں ماری گئیں، اسامہ ستی کے والد کی پریس کانفرنس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق اسامہ ستی کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر میرے بیٹے پر فائرنگ کی، کوئی نیا پاکستان نہیں بن رہا، نیا قبرستان بنایا جارہا ہے، محکمہ پولیس کی انکوائری قبول نہیں، چیف جسٹس پاکستان واقعے کا از خود نوٹس لیں، کوئی ابہام نہیں ملوث اہلکاروں کو سزائے موت دی جانی چاہئے۔اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب (2 جنوری کو) سیکٹر جی 10 میں ایک کار پر فائرنگ کی، جس میں سوار نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مشکوک گاڑی

اشارے کے باوجود نہ رکی تو ٹائروں پر فائر کئے گئے تاہم اس دوران گولیاں نوجوان کو لگ گئیں۔اسامہ ستی کے والد ندیم یونس ستی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے تحقیقات کو یکسر مسترد کردیا، انہوں نے کہا کہ ہمارے محافظوں نے ہی میرے بچے کو قتل کیا، وہی قاتل، وہی محافظ وہی گواہ، ایسی انکوائری قبول نہيں، ميرے بيٹے کی گاڑی پولیس اہلکاروں کی گاڑی کے آگے کھلونا تھی، ڈی ایس پی نے کہا کہ پوليس کی غفلت سے اسامہ کی جان گئی، يہ کوئی غفلت نہيں پوليس نے جان بوجھ کر فائرنگ کی۔نوجوان کے قتل میں ملوث انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے 5 اہلکاروں کو گرفتار کرکے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کا کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے والے کسی بھی شخص کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ڈی آئی جی آپریشنز کی زیرنگرانی ایس ایس پی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں ایس پی صدر اور ایس پی انویسٹی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔اسامہ کے والد نے واقعے سے متعلق کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ میرے بچے کو گاڑی سے باہر نکال کر گولیاں ماری گئیں، گاڑی کی سیٹ پر خون کا کوئی نشان نہیں، کوئی گاڑی کے اندر بیٹھ کر پیر پر گولی نہیں مار سکتا، پولیس نے جان بوجھ کر میرے بیٹے پر فائرنگ کی، پیچھا کررہے تھے تو گاڑی پر آگے سے گولی کس نے ماری؟۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسامہ ستی کو 6 گولیاں لگیں۔ جسم کے 11 حصوں پر زخم آئے۔ پھیپھڑوں پر گولی لگنے اور زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے نوجوان کی

موت واقع ہوئی۔ پوسٹمارٹم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسامہ ستی کے سر، کمر، پاؤں اور بازوؤں پر زخم پائے گئے۔ندیم ستی کا کہنا تھا اگر پولیس والے پیچھا کر رہے تھے تو آگے سے گولیاں کس نے ماریں،حد تو یہ ہے ہائیکورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشل کمیٹی اب تک نہیں بنی، پولیس نےپہلےبیان دیا2گولیاں زمین پرفائرکیں،لیکن اگر رپورٹ اور حقائق کو دیکھا جائے تو پندرہ سے زائد گولیاں گاڑی پر چلائی گئیں،صبح چار بجے ہمیں ایس ایچ او نے فون کر کے بتایا کہ پولیس مقابلے میں آپ کے بیٹے کو گولی لگ گئی ،میرے بچے کے پاس نہ پستول ، نہ پتھر، نہ اینٹ، نہ چُھری، نہ چاقو

تھا اور انہوں نے پولیس مقابلہ کہہ دیا۔اُسامہ ستی کے والد نے کہا کہ میں وزیر اعظم عمران خان سے یہ ہی اپیل کرتا ہوں مجھے انصاف دلایا جائے تاکہ آئندہ کسی کا بھی اُسامہ چھلنی نہ ہو ، اسامہ ستی قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے ہاتھوں اسامہ ستی کی ہلاکت کی جوڈیشل انکوائری میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ملزمان نے اسامہ کو گولیاں مارنے کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال دیا۔گرفتار اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ گاڑی میں اہم ڈکیت جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں