نواز شریف کے دور میں بھارتی شہری بھی پاکستان آکر ٹھہرتے تھے،انکشاف

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہےکہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ شریف خاندان کی مفاہمت نہیں ہوسکتی، اگر مفاہمت کی گئی تو ملک کو داؤ پر لگانے والی بات ہوگی، انڈین پرائیویٹ شہری بھی آکر یہاں ٹھہرتے تھے، شریف خاندان تردید کردے تومیں نام لے دوں گا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنے تجزیے میں کہا کہ آصف زرداری کا ایک ٹارگٹ ہے کہ ان کا بیٹا بلاول بھٹو سیاست کرے، وہ صاف کہتے ہیں کہ ان پر جو مقدمات ہیں وہ خود دیکھ لیں گے، تاریخوں پر تاریخ کیسے لینی ہے، ان کو پتا ہے۔بس اسٹیبلشمنٹ بلاول کو کھل کر سیاست کرنے کی اجازت دی جائے،

کیونکہ اگر عمران خان چلے جاتے ہیں تو پھر بلاول بھٹو اور مریم نواز ہیں، لیکن یہ وہ پلیئر ہیں جو نظر آرہے ہیں۔شریف خاندان کی اب مفاہمت نہیں ہوسکتی، ان کا انڈیا کے معاملے پر جو رویہ تھا، شریف خاندان تردید کرے میں نام لے دوں گا، انڈیا سے پرائیویٹ شہری بھی آکر یہاں ٹھہرتے تھے، سب کو معلوم ہے کہ کلبھوشن کا نام نہیں لیتے تھے، آج بھی انڈیا پر تنقید نہیں کرتے۔کشمیری مر رہے ہیں لیکن یہ نام نہیں لیتے، اس لیے اس سب کے ہوتے بھی اگر اسٹیبلشمنٹ مفاہمت کرلے تو ملک کو داؤ پر لگانے والی بات ہے، کیوں نہ پھر زرداری چانس لے۔ اب ڈائیلاگ کیلئے درانی آگئے جس سے لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کروا رہی ہے، اچھا ہے اس سے امن ہوگا۔ کنسٹرکشن کا اچھا فیصلہ ہے، لیکن اس سے معیشت نہیں چلتی، کیونکہ پیداوار بڑھنی چاہیے، ایکسپورٹ کم ہوئی ہے، سرمایہ داروں کے پیسے کہاں ہیں؟ گدے کے نیچے بھی دس کروڑہے۔صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوجائے گا۔ اسی طرح ٹیکس وصولیاں کم ہوئی ہیں۔ ڈالر میں دیکھیں تو 36 ارب ڈالر سے 25 بلین ڈالر پر آگئی ہے، اڑھائی سال ہنی مون پیریڈ نہیں ہوتا، یہ تو سو دنوں میں کہتے تھے ہم یہ کچھ وہ کچھ کردیں گے۔ میں مبالغہ آرائی نہیں کررہا، مجھے موجودہ ساری لیڈرشپ انفرادی طور پر فارغ ہوتی نظرآرہی ہے۔ ہمیں 7، 8 فیصد گروتھ ریٹ چاہیے، دفاع کیلئے پیسا ضروری ہے۔ اگر معیشت ڈوبتی چلی جائے گی تو دفاع کیسے ہوگا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں