کوئٹہ (نیوز ڈیسک) بلوچستان میں قتل ہونے والے مزدور کی بہن نے کہا کہ اگر کسی کو کربلا کا منظر دیکھنا ہے تو وہ میرے خاندان کو دیکھ لے۔ ہمارے خاندان میں جنازہ اٹھانے والا کوئی مرد نہیں بچا۔ جس کے بعد ہم چھ بہنوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے بھائی اور اپنے رشتہ داروں کے جنازے خود اٹھائیں گے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق معصومہ یعقوب علی ، جن کا اکلوتا بھائی محمد صادق اور چار دیگر رشتہ دار سنیچر کی شب صوبہ بلوچستان کے ضلع مچھ میں مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دس کان کنوں میں شامل ہیں، نے کہا کہ میرے اکلوتے بھائی سمیت ان کے
خاندان کے پانچ افراد کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔میرے بھائی چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی اور دو بچوں کے والد تھے۔جبکہ دیگر ہلاک ہونے والے رشتہ داروں میں 18 سالہ بھانجا احمد شاہ، دو ماموں 20 سالہ شیر محمد اور 30 سالہ محمد انوار اور ان کی خالہ کا بیٹا محمد احسن شامل ہیں۔ معصومہ ، جو کہ تھرڈ ائیر کی طالبہ ہے ، کا کہنا تھا کہ میرے والد ضعیف ہیں۔ میرا بھائی ہم چھ بہنوں، بوڑھے والد، اپنی اہلیہ اور اپنی دو بیٹیوں کا واحد کفیل تھا۔وہ تو محنت مزدوری اور رزق حلال کمانے کے لیے اپنے شہر سے میلوں دور گیا تھا۔ میرے بھائی، میرے رشتہ داروں اور سارے مارے جانے والوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان لوگوں کو تو سرنگوں میں مزدوریاں کرتے ہوئے یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ دن ہے کہ رات۔ کئی مرتبہ اس طرح ہوا ہے کہ بھائی مزدوری کرنے کے بعد فارغ ہو کر فون کرتے تو کہتے کہ مغرب کا وقت ہوا ہے۔مغرب کی نماز پڑھ لوں، تو اصل میں اس وقت رات کا کافی حصہ بھی گزر چکا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی مزدور تھا، کان کن تھا مگر وہ اتنی محنت کرتا تھا کہ ہماری تعلیم سمیت تمام ضرورتیں پوری ہوتیں تھیں، ہمارے بھائی اور والد کا کوئی بینک اکاوئنٹ نہیں ہے مگر ہمارے تمام مسائل حل ہوتے تھے۔ معصومہ نے حکومت وقت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ میں ریاست مدینہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسی ریاست مدینہ ہے جس میں دن دیہاڑے بے گناہ خاندانوں کے سہاروں کو اس بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے اور اس کے بعد صرف میڈیا پر تعزیتی بیانات کے
علاوہ کچھ بھی نہیں ہو رہا ہے۔میں کہتی ہوں کہ اگر یہ واقعی انصاف کی ریاست ہے۔ اگر یہ واقعی مسلمانوں کی ریاست ہے۔ اگر یہ واقعی ریاست مدینہ ہے تو ہمارے مجرموں کو فی الفور قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انھیں سامنے لایا جائے۔ آخر ہم کب تک اپنے لوگوں کی لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز بلوچستان کے علاقے مچھ کی کوئلہ فیلڈ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 11 کان کن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ گذشتہ روز مچھ میں گشتری کول مائنز میں کام کرنے والے 11 کانکنوں کو شناخت کے بعد ان کے ہاتھ پاؤں رسیوں سے باندھ کر بے دردی سے قتل کردیا تھا۔









