افسران کی تعیناتی کا مطالبہ نہ ماننے پر فضل الرحمن اور بلاول بھٹو کے درمیان ناراضی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے درمیان ناراضگی ہے، مولانا فضل الرحمان نے کچھ کو ڈپٹی کمشنر اور کچھ اور افسران بھی لگائیں، موصوف کا اپنے افسران لگانے کا یہ طریقہ ہے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں اپنے تجزیے میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کے درمیان ناراضگی ہے، بلاول کی غیرحاضری بلاوجہ نہیں ہے، مولانا فضل الرحمان نے کچھ کو ڈپٹی کمشنر اور کچھ اور افسران بھی لگائیں، موصوف کا اپنے افسران لگانے کا یہ طریقہ ہے۔زرداری کا ٹارگٹ ہے کہ ان کا بیٹا بلاول بھٹو سیاست کرے،

وہ صاف کہتے ہیں کہ ان پر جو مقدمات ہیں وہ خود دیکھ لیں گے، تاریخوں پر تاریخ کیسے لینی ہے، ان کو پتا ہے۔بس اسٹیبلشمنٹ بلاول کو کھل کر سیاست کرنے کی اجازت دی جائے، کیونکہ اگر عمران خان چلے جاتے ہیں تو پھر بلاول بھٹو اور مریم نواز ہیں، لیکن یہ وہ پلیئر ہیں جو نظر آرہے ہیں۔ شریف خاندان کی اب مفاہمت نہیں ہوسکتی، ان کا انڈیا کے معاملے پر جو رویہ تھا، شریف خاندان تردید کرے میں نام لے دوں گا، انڈیا سے پرائیویٹ شہری بھی آکر یہاں ٹھہرتے تھے، سب کو معلوم ہے کہ کلبھوشن کا نام نہیں لیتے تھے، آج بھی انڈیا پر تنقید نہیں کرتے، کشمیری مر رہے ہیں لیکن یہ نام نہیں لیتے، اس لیے اس سب کے ہوتے بھی اگر اسٹیبلشمنٹ مفاہمت کرلے تو ملک کو داؤ پر لگانے والی بات ہے، کیوں نہ پھر زرداری چانس لے۔اب ڈائیلاگ کیلئے درانی آگئے جس سے لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کروارہی ہے، اچھا ہے اس سے امن ہوگا۔اسی طرح سینئر صحافی صابر شاکر نے کہاکہ ریاستی اداروں نے قومی ڈائیلاگ کیلئے تین اہم رہنماؤں کو مائنس کردیا ہے، نوازشریف ، مریم نواز اور اسحاق ڈار یہ تینوں عدالتوں سے سزایافتہ ہیں، ان سے بات نہیں ہوسکتی، شہبازشریف ، حمزہ شہباز اور مولانا فضل الرحمان سے بات ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں